مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا روزے میں زیادہ دیر لیٹنا اجر و ثواب میں کمی یا زیادتی کا سبب بنتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

اگر روزہ دار بھوک اور پیاس کی شدت کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ لیٹ کر گزارے تو کیا اس سے روزے کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روزے کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بلکہ اس طرح کرنے سے اجر و ثواب زیادہ حاصل ہوتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

«أجرک عَلٰی قَدْرِْ نَصَبَکِ»

(صحيح البخاري، العمرة، باب اجر العمرة علی قدر النصب، ح: ۱۷۸۷ وصحيح مسلم، الحج، باب احرام النفساء… ح: ۲۱۱ (۱۲۶))

’’اس کا ثواب تمہارے خرچ یا تکلیف برداشت کرنے کے بقدر ہوگا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں انسان جتنی زیادہ محنت یا تھکاوٹ برداشت کرے گا، اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب پائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، وہ ایسے کام بھی کر سکتا ہے جس سے روزے کی شدت میں کمی آجائے، مثلاً پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنا یا ٹھنڈی جگہ پر بیٹھنا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔