کیا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ سے آہستہ آمین ثابت ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور صحابہ سے آہستہ آمین ثابت ہے؟

جواب:

کسی صحیح حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم یا کسی صحابی سے آہستہ آمین کہنا ثابت نہیں۔ اس بارے میں مروی تمام روایات غیر ثابت اور ضعیف ہیں۔ اس کے برعکس اونچی آمین پر کئی احادیث اور آثار صحابہ دلالت کناں ہیں۔
❀ اسحاق کو سج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا ؟ ”کیا آمین اونچی کہی جائے گی؟ فرمایا: جی ہاں، اللہ کی قسم امام و مقتدی آمین اونچی کہیں گے۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ بھی کہتے تھے: آپ فرماتے ہیں: اونچی آمین نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر جائے، یہ امام پر زیادہ لازم ہوتی ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ اتنی اونچی کہے کہ کم از کم قریب والے سن لیں، اگر صف کے آخر تک سنا دے، تو کیا بات ہے! حتی کہ مردوں کے پیچھے کھڑی عورتوں کو بھی سنا دے۔ لوگ چھوڑ بھی دیں تو کوئی امام یا مقتدی اس سنت کو نہ چھوڑے۔ شرم محسوس کر کے یا کسی خوف سے یا کسی مجبوری کے ڈر سے بھی نہ چھوڑے، کیونکہ اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتے۔“
(مسائل أحمد وإسحاق بن راهويه برواية الكوسج: 138/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے