سوال :
کیا دینی مدارس اور ادارے فی سبیل اللہ شمار ہوتے ہیں اور ان پر خرچ کرنا، اساتذہ کی تنخواہوں کا بندوبست کرنا وغیرہ فی سبیل اللہ ہی سمجھا جائے گا یا نہیں؟ کتاب و سنت کی رو سے وضاحت فرما دیں۔
جواب :
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ”فی سبیل اللہ“ کا اطلاق جہاد اور تمام امور خیر پر کیا گیا ہے۔ جہاں مصارف زکوٰۃ کا ذکر ہے اور سات مصارف کے مقابل فی سبیل اللہ کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد جہاد ہے اور بعض مفسرین نے حج بھی ذکر کیا ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وأما فى سبيل الله فمنهم الغزاة الذين لا حق لهم فى الديوان وعند الإمام أحمد والحسن وإسحاق والحج فى سبيل الله للحديث
(تفسیر ابن کثیر 403/3 بتحقیق عبد الرزاق المهدي)
”فی سبیل اللہ“ میں وہ غازی و مجاہد آتے ہیں جن کا دیوان میں کوئی حق نہیں ہوتا اور امام احمد، امام حسن بصری اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کے نزدیک ایک حدیث کی وجہ سے حج بھی فی سبیل اللہ میں شامل ہے۔
کئی ایک احادیث صحیحہ و جلیلہ و مشہورہ میں فی سبیل اللہ کا اطلاق جہاد کے علاوہ دیگر امور خیر پر کیا گیا ہے۔ امام المحدثین سید الحفاظ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عبایہ بن رفاعہ کی حدیث نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں:
أدركني أبو عبس وأنا أذهب إلى الجمعة فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من اعبرت قدماه فى سبيل الله حرمه الله على النار
(صحیح البخاری، كتاب الجمعة، باب المشي إلى الجمعة 907)
مجھے ابو عبس رضی اللہ عنہ نے اس حال میں پایا کہ میں نماز جمعہ کے لیے جا رہا تھا تو انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کے قدم اللہ کی راہ میں خیس آلود ہو گئے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو آگ پر حرام کر دے گا۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو عبس عبد الرحمن بن جبر رضی اللہ عنہ نے مسجد کی طرف نماز جمعہ کے لیے جانے کو فی سبیل اللہ شمار کیا ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خرج فى طلب العلم فهو فى سبيل الله حتى يرجع
(سنن الترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم 2647)
”جو آدمی طلب علم کے لیے نکلا وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں ہے۔“
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی مع تحفہ 442/7) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو داری اور ضیاء مقدسی نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی میری اس مسجد میں صرف علم سیکھنے یا سکھانے کے لیے آیا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے کام کی غرض سے آیا وہ اس آدمی کی مانند ہے جو دوسرے لوگوں کے سامان پر نظر رکھتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ 227، صحیح الترغيب والترهيب 146/1، مسند أحمد 350/2، حدیث 8587)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین کا علم سیکھنا سکھانا بھی فی سبیل اللہ ہے، لہذا جو مدارس دینیہ کتاب و سنت کے علوم کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کر رہے ہیں اور علماء و اساتذہ، خطباء و واعظین اور مجاہدین و غازیان تیار کر رہے ہیں وہ بھی اللہ کی راہ میں کام کر رہے ہیں، ان کا عمل محمود و مستحسن ہے۔ ان اداروں پر خرچ کرنا فی سبیل اللہ ہی شمار ہو گا۔ انھی مدارس کی برکت سے آج مجاہدین دنیا کے مختلف خطوں میں کفار کے مقابلہ میں نہ رو آزما ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں میں برکت نازل فرمائے اور ان کے قائم کردہ اداروں کو تاقیامت دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ (آمین)