مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا دوسری بیوی کا زیادہ مہر پہلی کے ساتھ ناانصافی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) جلد 2، صفحہ 189

حق مہر اور مساوات کا مسئلہ

سوال

ایک آدمی دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کی پہلی بیوی پہلے سے موجود ہے۔ اگر وہ دوسری بیوی کا مہر پہلی بیوی کے مقابلے میں زیادہ مقرر کرتا ہے، تو کیا یہ انصاف کے خلاف اور پہلی بیوی کے حق میں زیادتی شمار ہوگی؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • ✿ مہر کا تعین خاوند اور بیوی کے باہمی معاہدے کا حصہ ہوتا ہے، جو عموماً بیوی کے سرپرستوں (اولیاء) کے ذریعے طے پاتا ہے۔
  • ✿ مختلف حالات اور ضروریات کے پیش نظر مہر میں کمی یا زیادتی کی جا سکتی ہے۔
  • ✿ لہٰذا، اگر کوئی شخص دوسری بیوی کا مہر پہلی بیوی سے زیادہ مقرر کرتا ہے، تو یہ شرعی طور پر پہلی بیوی کے حقوق کی خلاف ورزی یا ناانصافی نہیں سمجھی جاتی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔