سوال
محترم، میں نے آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا کہ کیا بال اور داڑھی کاٹنے کا پیشہ اختیار کرنا جائز ہے؟ اور اگر کوئی اس کام کو کرتا ہو تو کیا اس کے ہاتھ کا کھانا بھی کھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ آپ نے جواب دیا تھا کہ یہ کام کرنا بھی حرام ہے اور اس کام کی کمائی سے کھانا بھی حرام ہے۔ الحمدللہ، میں نے پہلے بھی سعودی عرب میں یہ کام چھوڑا تھا، جس سے مجھے 6 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اب دوبارہ جھگڑا ہوا ہے کہ مجھے کویت جانا چاہیے۔ پہلے بھی کویت کا ویزہ آیا تو میں نے انکار کر دیا، اور اب دوبارہ میرے بھائی نے ویزہ بھیجا ہے لیکن میں نے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے۔ اس وقت میرے والدین دل سے سخت ناراض ہیں۔ میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں کہ اگر میں نے والدین کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
اگر میں وقتی طور پر وہاں چلا جاؤں اور کچھ وقت یہ کام کر کے معاوضہ نہ لوں، اور ساتھ ہی کسی جائز کام کی تلاش میں رہوں، اور جب کوئی جائز کام مل جائے تو یہ کام چھوڑ کر جائز ذریعۂ معاش اختیار کر لوں، تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
◈ داڑھی مونڈنا، منڈوانا، کاٹنا اور کٹوانا شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔
◈ اس پیشے کو اختیار کرنا بھی ناجائز ہے، اور اس کام کی آمدنی بھی حرام ہے۔
◈ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«أَعْفُوْا اللُّحٰی»
داڑھیاں بڑھاؤ۔
(صحیح حدیث)
◈ لہٰذا، یہ کام مفت میں بھی کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی وقتی طور پر کرنا جائز ہے۔
والدین کے معاملے میں شرعی حکم
◈ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے:
﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا﴾
اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
◈ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔
◈ لیکن رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے:
«لا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِيَةِ اﷲِ»
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔
(صحیح حدیث)
نتیجہ
◈ اگر والدین ایسی بات کا حکم دیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل ہو، تو ایسی بات میں والدین کی اطاعت جائز نہیں۔
◈ لہٰذا، آپ کا اس ناجائز کام کو وقتی طور پر بھی کرنا جائز نہیں، خواہ آپ اس کا معاوضہ نہ لیں، یا بعد میں چھوڑنے کا ارادہ رکھیں۔
◈ آپ پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر حال میں مقدم رکھیں، اور والدین کو احسن انداز میں سمجھائیں تاکہ ان کا دل بھی نرم ہو جائے اور وہ ناراض نہ رہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب