سوال:
کیا داعی کے لیے عادل ہونا شرط ہے؟
جواب:
ہر مسلمان پر دو چیزوں پر عمل کرنا ضروری ہے، پہلی یہ کہ دین کے تمام احکام پر عمل کرے اور ممنوع کاموں سے اجتناب کرے، دوسری یہ کہ نیکی کے کاموں کا حکم دے اور برائیوں سے بچنے کی تبلیغ کرے۔ اب اگر کوئی تمام احکام شرعیہ پر عمل نہیں کرتا یا بعض ممنوع کاموں کا ارتکاب کرتا ہے، تو ایسا نہیں کہ وہ ان احکام شرعیہ کا حکم نہیں دے سکتا یا اس پر ان احکام کی تبلیغ کرنا ضروری نہیں۔ تسلیم کہ اسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور جتنا ہو سکے شریعت پر عمل کرنا چاہیے، مگر یہ کہنا کہ دین کی تبلیغ وہی کرے، جو پورے کا پورا دین پر چل رہا ہے، یہ بات درست نہیں اور نہ ایسا ممکن ہے۔ لہذا داعی کے لیے ضروری نہیں کہ وہ عدالت کی تمام شرائط پر پورا اترے، جو جتنا دین سیکھے، اس پر عمل کرے، اس کی تبلیغ کرے اور ہمیشہ مزید سیکھنے اور عمل کرنے کی کوشش میں رہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس تبلیغ کے اس پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
قال العلماء: ولا يشترط فى الآمر والناهي أن يكون كامل الحال ممتثلا ما يأمر به مجتنبا ما ينهى عنه بل عليه الأمر وإن كان مخلا بما يأمر به والنهي وإن كان متلبسا بما ينهى عنه فإنه يجب عليه شيئان أن يأمر نفسه وينهاها ويأمر غيره وينهاه فإذا أخل بأحدهما كيف يباح له الإخلال بالآخر
اہل علم کہتے ہیں: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والے کے لیے شرط نہیں کہ وہ کامل طور پر پابند شرع ہو، جس بات کا حکم دیتا ہے اس پر خود بھی عمل کرتا ہو اور جس برائی سے منع کرتا ہے، خود بھی اس سے بچتا ہو، بلکہ اگر وہ کسی نیکی کا تارک ہے، تب بھی اس نیکی کا حکم دینا اس پر ضروری ہے اور اگر وہ کسی برائی کا مرتکب ہے، تب بھی اس پر برائی سے روکنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس پر دو چیزیں واجب ہیں؛ خود کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور دوسروں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔ بھلا اگر کوئی ایک واجب کو ترک کرتا ہے، تو اس کے لیے دوسرے واجب کو ترک کرنا کیونکر جائز ہوگا؟
(شرح النووي: 23/2)
❀ علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
ليس من شرط الناهي أن يكون عدلا عند أهل السنة، خلافا للمبتدعة حيث تقول: لا يغيره إلا عدل، وهذا ساقط، فإن العدالة محصورة فى القليل من الخلق، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر عام فى جميع الناس
اہل سنت کے نزدیک برائی سے روکنے والے کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ (عدالت کی تمام شرائط پر پورا اترنے والا) عادل ہو، اس کے برخلاف اہل بدعت کہتے ہیں کہ برائی سے صرف عادل ہی روک سکتا ہے، یہ بات غلط ہے، کیونکہ (کامل) عدالت صرف چند لوگوں میں پائی جاتی ہے، جبکہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا سارے کے سارے لوگوں کے لیے ضروری ہے۔
(تفسير القرطبي: 47/4)