سوال:
کیا خضر علیہ السلام زندہ ہیں؟
جواب :
خضر علیہ السلام کے زندہ ہونے پر کوئی دلیل نہیں ۔ بعض صوفیا نے ان کے متعلق باطل عقائد پھیلا رکھے ہیں۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ ( 597ھ) فرماتے ہیں:
الدليل على أن الخضر ليس بباق فى الدنيا أربعة أشياء؛ القرآن والسنة وإجماع المحققين من العلماء والمعقول.
”سیدنا خضر علیہ السلام کے دنیا میں باقی نہ رہنے پر چار دلائل ہیں ؛ ① قرآن ، ② حدیث ، ③ محقق علما کا اجماع ، ④ عقل۔“
(المنار المنيف لابن القيم، ص 69)
حیات خضر علیہ السلام کے بارے میں مروی تمام روایات ضعیف و غیر ثابت ہیں ۔
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الأحاديث التى يذكر فيها الخضر وحياته كلها كذب ولا يصح فى حياته حديث واحد.
”وہ تمام احادیث ، جن میں خضر علیہ السلام اور ان کے زندہ ہونے کا ذکر ہے،سب جھوٹ ہیں ، حیات خضر کے بارے میں کوئی ایک حدیث بھی ثابت نہیں۔“
(المنار المنيف، ص 67)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد روي من وجه آخر ضعيف ولا يصح.
”یہ روایت دیگر ضعیف سندوں سے بھی مروی ہے۔ یہ روایت ثابت نہیں۔“
(البداية والنهاية : 258/2)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هي واهية كلها.
”اس بارے میں مروی تمام روایات ضعیف ہیں۔“
(نتائج الأفكار : 358/4)
❀ علامہ ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الجمهور من الفقهاء والمحدثين وغيرهم وبعض الصوفية على أنه مات.
”جمہور فقہا، محدثین وغیرہ اور بعض صوفیا کے نزدیک خضر علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔“
(مرقاة المفاتيح : 3466/8)