سوال:
کیا خبر واحد حجت ہے؟
جواب:
خبر واحد کی سند پایہ ثبوت کو پہنچے تو وہ دین میں حجت ہے، خواہ اس کا تعلق عقیدہ سے ہو، یا عمل سے۔ کتاب وسنت اور اجماع امت اس پر دلالت کناں ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
يقولون إن أبا هريرة يكثر الحديث، والله الموعد، ويقولون: ما للمهاجرين والأنصار لا يحدثون مثل أحاديثه؟ وإن إخوتي من المهاجرين كان يشغلهم الصفق بالأسواق، وإن إخوتي من الأنصار كان يشغلهم عمل أموالهم، وكنت امرأ مسكينا، ألزم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ملء بطني، فأحضر حين يغيبون، وأعي حين ينسون، وقال النبى صلى الله عليه وسلم يوما: لن يبسط أحد منكم ثوبه حتى أقضي مقالتي هذه، ثم يجمعه إلى صدره فينسى من مقالتي شيئا أبدا فبسطت نمرة ليس على ثوب غيرها، حتى قضى النبى صلى الله عليه وسلم مقالته، ثم جمعتها إلى صدري، فوالذي بعثه بالحق، ما نسيت من مقالته تلك إلى يومي هذا، والله لولا آيتان فى كتاب الله، ما حدثتكم شيئا أبدا: إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات والهدى
لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے! حالانکہ مجھے بھی اللہ سے ملنا ہے۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین وانصار ابو ہریرہ کی طرح اتنی حدیثیں بیان کیوں نہیں کرتے؟ دراصل میرے مہاجر بھائی بازار میں کاروبار میں مصروف رہتے تھے اور میرے انصار بھائی کھیتی باڑی وغیرہ میں مصروف رہتے تھے، جبکہ میں مسکین آدمی تھا، مجھے بس پیٹ بھر کھانا چاہیے تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹا رہتا، میں ان لمحات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہوتا تھا، جب انصار ومہاجرین حاضر نہ ہوتے اور میں نے بہت کچھ ایسا یاد رکھا، جنہیں وہ بھول گئے۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری گفتگو (حدیث کی مجلس) مکمل ہونے تک جو بھی اپنا کپڑا بچھائے رکھے گا، پھر اسے سینے سے لگا لے گا، تو اسے میری یہ حدیثیں کبھی نہیں بھولیں گی۔ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں: میں نے اپنی چادر بچھا لی، میرے جسم پر اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ تھا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو کا اختتام کیا، تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ تو اس ذات کی قسم، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! مجھے تب سے لے کر آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ گفتگو نہیں بھولی اور اللہ کی قسم! اگر قرآن کریم میں یہ دو آیات نہ ہوتیں، تو میں آپ کو کوئی حدیث بیان نہ کرتا:
(صحيح البخاري: 2350، صحیح مسلم: 2493)
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى
(البقرة: 159-160)
بلاشبہ جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں۔
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
يرد به على الرافضة وقوم من الخوارج زعموا بأن أحكام النبى وسننه منقولة عنه نقل تواتر، وأنه لا سبيل إلى العمل بما لم ينقل نقل تواتر، وقولهم فى غاية الجهل بالسنن وطرقها، فقد صحت الآثار أن أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم أخذ بعضهم السنن من بعض ورجع بعضهم إلى ما رواه غيره عن النبى صلى الله عليه وسلم وانعقد الإجماع على القول بالعمل بأخبار الآحاد، وبطل قول من خرج عن ذلك من أهل البدع
امام بخاری رحمہ اللہ اس ترجمہ الباب کے ذریعہ روافض اور خوارج کے ایک گروہ پر رد کرنا چاہتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور سنن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر منقول ہیں، نیز کہتے ہیں کہ جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر منقول نہ ہو، اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ ان کا یہ قول سنن اور ان کی اسانید سے سخت جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ صحابہ نے ایک دوسرے سے احادیث حاصل کی ہیں، بعض صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے دوسرے صحابہ کی طرف رجوع بھی کیا ہے۔ نیز اس پر اجماع منعقد ہے کہ اخبار آحاد پر عمل کیا جائے گا اور جو اہل بدعت اس اجماع سے خارج ہوئے ہیں، ان کا قول باطل ہے۔
(شرح صحيح البخاري: 384/10-385، فتح الباري لابن حجر: 321/13)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا:
يا أبا هريرة، ما هذه الأحاديث التى تبلغنا أنك تحدث بها عن النبى صلى الله عليه وسلم، هل سمعت إلا ما سمعنا؟ وهل رأيت إلا ما رأينا؟ قال: يا أماه، إنه كان يشغلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم المرآة والمكحلة، والتصنع لرسول الله صلى الله عليه وسلم، وإني والله ما كان يشغلني عنه شيء
ابو ہریرہ! ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ حدیثیں نقل کرتے ہیں، وہ حدیثیں کیا ہیں؟ حالانکہ آپ نے بھی وہی سنا، جو ہم نے سنا اور آپ نے بھی وہی دیکھا، جو ہم نے دیکھا۔ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ماں جی! آپ آئینہ دیکھنے، سرمہ لگانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بننے سنورنے میں بھی مصروف رہتی تھیں، جبکہ اللہ کی قسم! میں حدیث رسول کے علاوہ کسی کام میں مصروف نہیں ہوا۔
(المستدرك على الصحيحين: 6160، وسنده صحيح)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الإسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔