سوال:
کیا حیض کے دنوں میں شوہر بیوی کا بستر الگ کر سکتا ہے؟
جواب:
حیض کے دنوں میں بیوی کا بستر الگ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی محض حائضہ ہونے کی وجہ سے بستر الگ کر دے، تو یہ جاہلیت والی سوچ اور فتیح بدعت ہے۔
❀ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
بينا أنا مع النبى صلى الله عليه وسلم، مضطجعة فى خميصة، إذ حضت، فانسللت، فأخذت ثياب حيضتي، قال: أنفست؟ قلت: نعم، فدعاني، فاضطجعت معه فى الخميلة
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی تھی کہ مجھے حیض آگیا۔ میں چپکے سے کھسکی اور اپنے حیض والے کپڑے پکڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ کو حیض آگیا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔
(صحيح البخاري: 296، صحیح مسلم: 296)
❀ علامہ ابن نحاس رحمہ اللہ (814ھ) فرماتے ہیں:
هذه بدعة مكروهة، مخالفة للسنة
یہ مکرہ بدعت ہے، سنت کی مخالفت ہے۔
(تنبيه الغافلين: ص 475)
البتہ اگر کوئی شخص اس لیے بستر الگ کر دیتا ہے کہ وہ اپنی شہوت پر قابو نہ پا سکے گا اور جماع کر بیٹھے گا، تو اس خدشے کے پیش نظر بستر الگ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔