سوال:
کیا حمل میں فوت ہونے والی عورت شہیدہ ہے؟
جواب:
دوران حمل فوت ہونے والی عورت شہیدہ ہے۔
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نیت کے مطابق اجر دیتا ہے، آپ شہادت کیسے سمجھتے ہیں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کہنے لگے: میدان جہاد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میدان قتال کے علاوہ بھی سات اسباب شہادت ہیں: ① مرض طاعون میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جانے والا، ② ڈوب کر مرنے والا، ③ نمونیا سے جاں بحق ہونے والا، ④ پیٹ کی بیماری سے جان کی بازی ہار جانے والا، ⑤ جل کر ہلاک ہونے والا، ⑥ دب کر دم توڑ دینے والا، ⑦ حمل سے فوت ہو جانے والی خاتون۔“
(موطأ مالك: 233/1، سنن أبي داود: 3111، سنن النسائي: 1846، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3189) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (503/1) نے اس کی سند کو ”صحیح “کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ”صحیح “کہا ہے۔