مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا حلال جانوروں کے پیشاب کو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا حلال جانوروں کے پیشاب کو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

حلال جانوروں کا پیشاب نجس نہیں، لہذا اگر کوئی ماہر طبیب کسی حلال جانور کا پیشاب بطور علاج استعمال کرے، تو کوئی حرج نہیں۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ آئے، ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیت المال کی اونٹنیوں کے پاس جانے اور ان کا پیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ چلے گئے، جب وہ تندرست ہو گئے۔
(صحيح البخاري: 233، صحیح مسلم: 1671)
❀ حسن بن عبید اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سأل الحكم بن صفوان إبراهيم عن بول البعير يصيب ثوب الرجل، قال: لا بأس به، أليس يشرب ويتداوى به
حکم بن صفوان رحمہ اللہ نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اونٹ کا پیشاب کپڑوں کو لگ جائے، تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، بھلا اونٹ کا پیشاب بطور علاج پیا نہیں جاتا؟
(مصنف ابن أبي شيبة: 1/109، وسنده صحيح)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
لست أعلم مخالفا فى جواز التداوي بأبوال الإبل، كما جاءت السنة
اونٹوں کے پیشاب سے علاج کرنا جائز ہے، جیسا کہ حدیث میں ثابت ہے۔ اس بارے میں مجھے کسی مخالفت کرنے والے کا علم نہیں۔
(مجموع الفتاوى: 21/562)
❀ علامہ حطاب رعینی مالکی رحمہ اللہ (954ھ) فرماتے ہیں:
يجوز التداوي بشرب بول الأنعام بلا خلاف، وكذا بول كل ما يباح لحمه
چوپایوں کے پیشاب سے علاج بلا اختلاف جائز ہے، اسی طرح ہر حلال جانور کے پیشاب سے بھی علاج جائز ہے۔
(مواهب الجليل: 1/120)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔