کیا حاجی عید کی قربانی الگ سے اپنے ملک میں کرے گا یا حج کی قربانی کافی ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

بعض لوگ کہتے ہیں حج کے موقع پر جو قربانی کی جاتی ہے وہ سنت ابراہیمی والی قربانی نہیں ہوتی، جو اپنے اپنے ملک میں دی جاتی ہے، بلکہ یہ دم شکرانہ یعنی ہدی ہے، یہ حج تمتع والوں پر واجب ہوتی ہے، اسے دم تمتع اور دم شکر بھی کہتے ہیں، اس کی وضاحت فرما دیجیے۔

جواب:

حج کے موقع پر جو قربانی کی جاتی ہے وہ سنت ابراہیمی ہے، قرآن حکیم کے مفسر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ابو الطفیل نے سوال کیا: ”آپ کی قوم کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ہے اور یہ سنت ہے۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”انھوں نے سچ کہا ہے۔“ پھر فرمایا:
إن إبراهيم لما أمر بالمناسك عرض له الشيطان عند المسعى فسابقه فسبقه إبراهيم ثم ذهب به جبريل إلى جمرة العقبة فعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم عرض له عند الجمرة الوسطى فرماه بسبع حصيات قال: فقد تله للجبين و على إسماعيل قميص أبيض و قال يا أبت إنه ليس لي ثوب تكفنني فيه غيره فاخلعه حتى تكفنني فيه فعالجه ليخلعه فنودي من خلفه ﴿أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا﴾فالتفت إبراهيم فإذا هو بكبش أبيض أقرن أعينَ
(مسند احمد 297/1: 2707، المعجم الكبير للطبراني 268/10، مسند طیالسی 2697، مجمع الزوائد 220 باب 15/5 شعب الایمان 4077 تفسير ابن كثير 353/5، تهذيب الآثار 6 یہ روایت اور طرق کے ساتھ تفسیر طبری 516/10 وغیرہ میں بھی موجود ہے)
”بلاشبہ جب ابراہیم علیہ السلام کو احکام حج کا حکم دیا گیا تو سعی کے مقام پر شیطان ان کے سامنے آیا، اس نے آگے نکلنے کی کوشش کی تو ابراہیم علیہ السلام اس پر سبقت لے گئے، جبریل علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کو جمرہ عقبہ کے پاس لے گئے تو پھر ان کے سامنے شیطان آگیا، انھوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ چلا گیا، پھر جمرہ وسطی کے پاس سامنے آگیا تو انھوں نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں، پھر اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔ اسماعیل علیہ السلام نے سفید قمیص زیب تن کی ہوئی تھی، وہ کہنے لگے: اے میرے ابا جان! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی کپڑا نہیں جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں، آپ اسے اتار لیں، تا کہ آپ مجھے اس میں کفن دے سکیں۔” ابراہیم علیہ السلام وہ قمیص اتارنے کی کوشش کرنے لگے تو انھیں پیچھے سے آواز دی گئی: ”اے ابراہیم! بلاشبہ تم نے خواب سچا کر دکھایا۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب مڑ کر دیکھا تو اچانک ایک سفید سینگوں والا مینڈھا موجود تھا۔“
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کو احکام حج کا جب حکم ملا تھا اور شیطان کو جمرات کے پاس کنکریاں ماری تھیں، اس موقع پر اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوئے تو اللہ نے سفید مینڈھا قربانی کرنے کے لیے دے دیا اور ان کے خواب کو سچا کر دیا۔ لہذا حج کے موقع پر قربانی کرنا سنت ابراہیمی ہے، اس میں کسی بھی اہل علم کو اختلاف نہیں، یہ چند متجددین کے ناقص اجتہاد کا کرشمہ ہے، وہ ایسے شوشے چھوڑ کر اسلام کی تعلیمات پر پانی پھیرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ چراغ پھونکوں سے بجھایا نہ جائے گا اور تا قیامت یہ سنت ابراہیمی زندہ رہے گی۔ (ان شاء اللہ!)