وضاحتِ شبہ
مضمون کے اہم نکات
حدیث کے راویوں کی جانچ پڑتال کے دوران بہت سے راویوں کےبارے میں علماءِ جرح وتعديل کا باہمی اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ کسی حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے میں راوی کی حیثیت کا بڑا دخل ہے، یوں احادیث کی حجیت اور حیثیت مزید مشکوک ہوجاتی ہے۔
جوابِ شبہ
پہلی بات
دنیا میں جتنے بھی علوم وفنون پائے جاتے ہیں ان میں کسی نہ کسی پہلو سے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے، کسی بیماری کے تعلق سے دو ڈاکٹروں کے مابین اختلاف ہو جاتا ہے کہ اس کا طریقۂ علاج کیا ہونا چاہیے، کسی عمارت کی تعمیر میں دو انجینئروں کا اختلاف ہو جاتا ہے کہ اسے کیسے تعمیر کیا جائے۔ لیکن کوئی بھی اس اختلاف سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے علمِ طب یا انجینئرنگ کو مشکوک قرار نہیں دیتا۔ بسا اوقات قرآن مجید کی کسی آیت کے فہم یا اعراب میں اختلاف ہو جاتا ہے لیکن اس سے اس آیت کی حیثیت مشکوک نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح کسی راوی کے بارے میں یہ اختلاف کہ وہ ثقہ ہے یا ضعیف، اس سے حدیث کی حیثیت مشکوک نہیں ہوتی۔
دوسری بات
جن راویوں کے بارے میں اختلاف ہوا ہے کہ وہ ثقہ ہیں یا ضعیف، ان کی تعداد ان راویوں کے مقابلے میں بہت کم ہے جن کے بارے میں محدثین اتفاقِ رائے رکھتے ہیں، چاہے وہ اتفاق اس کے ثقہ کہنے پر ہو یا ضعیف کہنے پر، لہٰذا اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس اختلاف سے حدیث کی حیثیت مشکوک ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ ان احادیث کی ہونی چاہیے جس کی سند میں ایسا مختلف فیہ راوی موجود ہے، لیکن جہاں ایسی صورت موجود نہ ہو وہاں تو حدیث کی حیثیت مُسَلَّم ہونی چاہیے! اس معمولی اختلاف کی بنیاد پر پورے ذخیرۂ حدیث کو مشکوک قرار دینا کونسا انصاف ہے؟
تیسری بات
علمی بنیادوں پر اختلاف ہوجانا کوئی معیوب بات نہیں، معیوب تب ہوتا ہے جب اس اختلاف کو حل کرنے کی کوئی صورت موجود نہ ہو۔ جس طرح ہر فن میں اہل فن کے مابین اختلاف ہوتا ہے اور ساتھ اس کے حل کا طریقہ بھی معلوم ہوتا ہے اسی طرح فن جرح و تعدیل میں جہاں اختلاف موجود ہے وہاں اس سے نکلنے کی صورتیں بھی موجود ہیں، جس سے اس فن کے ماہرین واقف ہوتے ہیں، مزید یہ کہ اس اختلاف کو سمجھنے اور اس کی سطح کا تعیّن کرنے کے لیے اہلِ علم نے باقاعدہ ضوابط مقرر کیے ہیں، جن کی تعداد پچاس سے متجاوز ہے۔ گویا ہر تعارض پر اعتراض نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہی ضوابط کی روشنی میں اس اختلاف کو دور کیا جائے گا。
اس سے واضح ہوتا ہے کہ فنِ جرح و تعدیل کا اختلاف محض الجھن یا کمزوری نہیں بلکہ ایک اصولی اور منظم طریقِ تحقیق ہے، جس نے ذخیرۂ حدیث کو زیادہ قابلِ اعتماد اور علمی معیار پر مضبوط کیا ہے۔
چوتھی بات
اگر کسی شخص کے بارے میں کسی الزام کے ثبوت میں اختلاف ہو جائے کہ آیا یہ الزام اس پر ثابت ہے یا نہیں تو کیا قاضی یہ کہہ کر فیصلے کو ترک کر سکتا ہے کہ اب چونکہ اختلاف ہو گیا ہے لہٰذا ہم اس سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں، یا وہاں اختلاف کے باوجود فیصلہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ اگر الزام ثابت ہے تو اس کی سزا دی جائے اور اگر ثابت نہیں تو اسے بری قرار دیا جائے۔ حدیث کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، اس میں ایک شخص ایک بات کو شریعت کی طرف منسوب کر رہا ہوتا ہے کہ فلاں بات نبیﷺ نے فرمائی ہے، لہٰذا یہاں فیصلہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ اگر وہ واقعی فرمانِ نبوی ہے تو اسے شریعت قرار دیکر عمل کیا جائے اور اگر نہیں تو شریعت کو اس سے پاک قرار دیا جائے، الغرض فیصلہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں [تحرير علوم الحديث للجديع: 1/ 516]۔
پانچویں بات
ایک شخص کے بارے میں اگر دو فریق ہوں، ایک کی رائے یہ کہ وہ اچھا ہے اور دوسرے کی رائے یہ کہ وہ برا ہے اور فیصلہ کرنا بھی ضروری ہو تو فیصلے میں چند امور کو ملحوظ رکھا جاتا ہے:
◄ دونوں فرقین کی اپنی حیثیت کا تعین کیا جائے کہ آیا وہ ایسے لوگ ہیں جن کی رائے کا اعتبار کیا جائے یا وہ خود ہی بے وقعت اور بے حیثیت لوگ ہیں، اگر اچھا کہنے والے معتبر ہیں اور برا کہنے والے غیر معتبر، تو اچھا کہنے والوں کی بات لی جاتی ہے اور اس کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح راوی میں بھی جرح وتعدیل کرنے والوں کی حیثیت دیکھی جاتی ہے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔
◄ اگر دونوں فریقین معتبر ہیں تو پھر دیکھا جاتا ہے کہ آیا ان دونوں باتوں کو جمع کرنا ممکن ہے یا نہیں، وہ اس طرح کہ اچھا کہنے والے کسی خاص پہلو یا جہت سے اچھا کہہ رہے ہوں اور برا کہنے والے کسی اور پہلو سے برا کہہ رہے ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک انسان میں اچھی اور بری دونوں صفات بیک وقت جمع ہو سکتی ہیں، مثلاً ایک شخص کاروباری معاملات میں اچھا ہو لیکن گھریلو معاملات میں برا ہو، بالکل اسی طرح یہ ممکن ہے کہ ایک راوی سچ بولنے (عدالت) میں اچھا ہو لیکن حافظے (ضبط) میں اچھا نہ ہو۔
◄ اگر دونوں فریقین کی باتوں کو جمع کرنا بھی ممکن نہ تو پھر کسی ایک فریق کی بات کو قرائن اور دلائل کی روشنی میں ترجیح دی جاتی ہے، مثلا اچھا کہنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور برا کہنے والے کم ہیں، یا پھر اچھا کہنے والے مقام ومرتبے میں برا کہنے والوں سے بڑے ہیں، یا کسی ایک فریق نے اس شخص کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہے اس لیے وہ اسے زیادہ بہتر جانتا ہے وغیرہ، بالکل یہی معیار راوی پر جرح وتعدیل کے حوالے سے ملحوظ رکھا جاتا ہے [تحرير علوم الحديث للجديع : 1/ 518 – 540]۔
چھٹی بات
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ راویوں پر کلام کرنے والے معمولی اشخاص نہیں تھے، بلکہ جرح و تعدیل ایک مستقل اور دقیق علم ہے، جس میں صرف انہی ناقدین کی آراء کو معتبر سمجھا جاتا ہے جو اس فن کی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ راویوں اور ان کے شیوخ کے احوال سے واقف ہوں، الفاظِ جرح و تعدیل اور ان کے مراتب کو بخوبی سمجھتے ہوں، راویوں کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہوں، خود مجروح نہ ہوں، اور ہر قسم کی بدعت، تعصب اور ذاتی میلانات سے پاک ہوں۔ مزید یہ کہ وہ فہم و ذکاوت کے حامل ہوں، عمیق تحقیق اور باریک تجزیے کے بعد نتیجہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہی شرائط کے حامل افراد کی جرح و تعدیل کو محدثین کے ہاں قبولیت حاصل ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جرح و تعدیل کا اختلاف حدیث کی حجیت کو مشکوک نہیں بناتا، بلکہ یہ فن اپنی علمی گہرائی اور اصولی توازن کی وجہ سے حدیث کے ذخیرے کو زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
مذکورہ تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ علمِ جرح وتعدیل کا تعلق چونکہ اشخاص کے بارے میں رائے زنی اور ان کو پرکھنے سے ہے لہٰذا اہلِ علم نے اس حوالے سے جن قواعد وضوابط کو استعمال کیا وہ نہ صرف یہ کہ عقلی، منطقی اور انتہائی دقیق ہیں بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا ان قواعد وضوابط کو محض شخصی کاوش باور کروانا سراسر لاعلمی اور نا انصافی ہے۔