مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے؟

جواب:

وہم سے مبرا کوئی نہیں۔ ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار وہم اور خطا سرزد ہو جانا ثقاہت میں مانع نہیں۔ کئی بار ائمہ و محدثین نے بھی وہم کیا ہے، مگر ان کی امامت اور جلالت علمی میں فرق نہیں آیا۔
❀ امام ابن عدی رحمہ اللہ (365ھ) فرماتے ہیں:
إن الثقة وإن كان ثقة فلا بد فإنه يهم فى الشيء بعد الشيء
ثقہ راوی سے بھی لازماً کوئی نہ کوئی وہم سرزد ہو جاتا ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال: 105/7)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
ليس من شرط الثقة أن لا يغلط أبدا
ثقہ کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ کبھی غلطی نہیں کر سکتا۔
(سِيَرُ أعلام النبلاء: 525/9، 346، 338/6)
❀ نیز فرماتے ہیں:
الثقة يهم فى الشيء بعد الشيء
ثقہ راوی سے کوئی نہ کوئی وہم سرزد ہو جاتا ہے۔
(تاريخ الإسلام: 1163/4)
❀ نیز فرماتے ہیں:
الثقة قد يهم
ثقہ کو بھی کبھی کبھار وہم ہو جاتا ہے۔
(تاريخ الإسلام: 43/4، 397/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔