کیا تین دن تک صف بچھا کر بیٹھنا شرعی ہے؟ مکمل وضاحت

ماخوذ: احکام و مسائل، جنازے کے مسائل، جلد 1، صفحہ 264

سوال

کیا موجودہ رائج طریقہ، جس میں تین دن تک پٹی یا صفیں بچھا کر بیٹھا جاتا ہے، شرعاً درست ہے؟ اور کیا وہاں جا کر دعا کی جا سکتی ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی شریعت میں احداد (سوگ) مخصوص صورتوں میں مشروع ہے، اور اس کا اصل حکم خواتین کے لیے ہے۔ اس کی وضاحت نبی کریم ﷺ کے درج ذیل فرمان میں موجود ہے:

«مَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ باﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلٰی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلٰی زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
*”نہیں جائز کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے کہ وہ سوگ کرے کسی میت پر تین دن سے زیادہ، سوائے خاوند کے، کیونکہ خاوند پر وہ چار ماہ دس دن سوگ کرے گی”*
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب احداد المراۃ علی غیر زوجها)

مروجہ طریقے کی شرعی حیثیت:

✿ موجودہ دور میں جو طریقہ رائج ہے کہ تین دن تک پٹی یا صفیں بچھا کر بیٹھا جاتا ہے، یہ طریقہ نہ قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے۔

✿ اسی طرح ان مجالس میں جو دعائیں پڑھی جاتی ہیں، ان کا بھی کہیں کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔

شرعی طور پر جائز طریقہ تعزیت:

✿ تعزیت کے وقت میت کے لواحقین کو صبر کی تلقین کرنا چاہیے۔

✿ ان کی ڈھارس بندھانا اور تسلی دینا سنت طریقہ ہے۔

✿ اس کے علاوہ غیر ثابت طریقوں کو اختیار کرنا بدعت اور غیر شرعی عمل ہے۔

هٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️