کیا بے نماز کا روزہ معتبر ہے ؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

کیا بے نماز کا روزہ معتبر ہے ؟

سوال :۔

بعض علماء ایسے مسلمان فرد کو عیب دار بتاتے ہیں جو روزہ رکھتا ہے، مگر نماز نہیں پڑھتا۔ حالانکہ نماز کا روزے میں کیا دخل ہے جب کہ میں روزہ رکھ کر جنت میں باب الریان کے ذریعے داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہونا چاہتا ہوں اور یہ بات معلوم ہے کہ روزہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کے کفارے کا سبب ہے۔

فتوی :۔

وہ لوگ جو آپ پر نماز نہ پڑھنے اور روزہ رکھنے کے باعث گرفت کرتے ہیں حق پر ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ نماز دین کا ستون ہے اور اسلام اس کے بغیر قائم نہیں ہوتا اور نماز کو قصداً چھوڑ دینے والا شخص کافر ہے اور دین اسلام سے خارج ہے اور کافر کا روزہ، صدقہ، حج یا کوئی بھی نیک عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ (التوبہ: 54)
”ان لوگوں کے صدقات محض اس وجہ سے قبول نہ کئے گئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نہیں آتے نماز کے لئے، مگر سستی کے ساتھ اور نہیں خرچ کرتے مگر دل کی کراہت کے ساتھ۔“
چنانچہ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ جب آپ روزہ رکھتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے تو آپ کا روزہ درست نہیں ہے اور یہ آپ کو اللہ کے ہاں فائدہ دے گا نہ اللہ سے قریب کرے گا۔ جہاں تک آپ کا یہ خیال ہے کہ روزہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ آپ اس حدیث کو نہیں جانتے جو اس سلسلہ میں وارد ہوئی ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :
الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة ورمضان إلى رمضان مكفرات لما بينهن ما اجتنبت الكبائر
”پانچ نمازیں، ایک جمعہ کے بعد دوسرا جمعہ ادا کرنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا، ان کی درمیانی مدت میں کئے ہوئے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں جب کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے۔“
(صحیح مسلم الطہارۃ باب الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ورمضان إلی رمضان : 233 ، مسند احمد 2/400)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کے مٹنے کو اس چیز سے مشروط کیا ہے کہ اس دوران آدمی کبیرہ گناہوں سے باز رہے مگر جب آپ روزہ رکھتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے تو آپ کبیرہ گناہوں سے نہیں بچ رہے۔ آپ غور کریں کہ نماز چھوڑنے سے بڑھ کر کون سا کبیرہ گناہ ہے بلکہ نماز چھوڑنا تو عین کفر ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ روزہ آپ کے گناہوں کا کفارہ بن سکے۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ نماز چھوڑنا کفر ہے اور آپ کا روزہ قبول نہیں ہے۔
اے میرے بھائی ! تم پر لازم ہے کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو سچی توبہ کرو اور وہ نماز جو اللہ نے تم پر فرض کی ہے اس کی ادائیگی کا اہتمام کرو پھر اس کے بعد روزہ رکھو۔ اسی لئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجنے لگے تو ان سے فرمایا کہ :
ليكن أول ما تدعوهم إليه شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات فى كل يوم وليلة
”سب سے پہلے لوگوں کو توحید الہی اور میری رسالت کے اقرار کی دعوت دینا، اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“
(صحیح بخاری المغازی باب بعث أبي موسى ومعاذ إلى الیمن قبل حجۃ الوداع : 4327 ، صحیح مسلم کتاب الایمان: 19)
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت کے بعد نماز کو رکھا پھر اس کے بعد زکوۃ کا ذکر فرمایا۔