مضمون کے اہم نکات
کیا بیس رکعت تراویح پر کوئی صحیح مرفوع روایت موجود ہے؟
ناظرین کرام!
مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب نے جس طرح لولے لنگڑے طریقہ سے اجماع کا دعویٰ کیا تھا اس سے بھی کہیں بدتر، کمزور اور بودے طریقہ پر اب وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بیس رکعت تراویح پر بعض مرفوع روایات ہیں۔ لیکن داد دیجئے مفتی صاحب کی شاطرانہ چال کی کہ موصوف نے عنوان میں بعض مرفوع روایات تو لکھا مگر صحیح مرفوع روایات نہیں لکھا کیونکہ ذخیرہ حدیث میں اگر ایک بھی صحیح صریح مرفوع روایت موجود ہوتی تو قاسمی صاحب سے بہت پہلے علماء احناف کو مل چکی ہوتی لیکن جس چیز کا وجود ہی نہیں وہ ملے کہاں مجبور ہو کر بیچارے قاسمی صاحب نے ایک ایسی حدیث کا سہارا لیا ہے جو تمام محدثین کرام اور اُن علماء احناف کے نزدیک جو حدیث سے شغف رکھتے ہیں متفقہ طور پر باطل منکر اور ضعیف ہے۔
مفتی صاحب کی پیش کردہ حدیث نمبر 1

حدیث آپ نے ملاحظہ فرمالی، قاسمی صاحب نے اس کی سند نقل نہیں فرمائی لیکن آپ کو ہم بتاتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں اس کی سند یوں ہے:
حدثنا يزيد بن هارون قال: أنا ابراهيم بن عثمان، عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس، الخ (163/2)
اس حدیث کا درجہ:
ضعيف جدا لا يصلح للاستدلال ولا للاستشهاد ولا للاعتبار فانه مداره على ابى شيبة ابراهيم بن عثمان، وهو متروك الحديث كما فى التقريب قال الزيلعي فى نصب الراية: هو معلول بابي شيبه ابراهيم بن عثمان وهو متفق على ضعفه ثم انه مخالف للحديث الصحيح عن أبى سلمة بن عبدالرحمن انه سال عائشه.
یہ حدیث سخت ضعیف ہے استدلال، استشہاد اعتبار کسی کے بھی لائق نہیں کیونکہ اس کا مدار ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان پر ہے اور وہ محدثین کے نزدیک متروک راوی ہے جیسا کہ تقریب میں ہے امام زیلعی حنفی نصب الرایہ میں فرماتے ہیں یہ حدیث ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کی وجہ سے معلول ہے محدثین اس کے ضعف پر متفق ہیں۔
پھر یہ حدیث اس صحیح حدیث کے مخالف بھی ہے جس کو ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔
مفتی صاحب کی پیش کردہ حدیث نمبر 2

دوسری حدیث جو موصوف نے نقل فرمائی ہے وہ سنن کبری کی ہے اس کی سند بھی نقل نہیں کی اس کی سند یوں ہے:
انبا ابوسعد الماليني حدثنا احمد بن عدى الحافظ ثنا عبد الله بن محمد ابن عبد العزيز حدثنا منصور بن ابي مزاحم حدثنا ابوشيبة عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس الخ
علامہ بیہقی نے سنن میں اس حدیث کے ذکر کے بعد فرمایا:
تفرد به ابوشيبة ابراهيم بن عثمان العبسي الكوفي، وهو ضعيف.
گویا کہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہو یا سنن کبری کی دونوں کا دارو مدار ایک ہی راوی پر ہے اور وہ ہے ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان العبسی الکوفی۔
اس طرح یہ دونوں روایتیں در حقیقت ایک ہی روایت ہے، قاسمی صاحب نے یا تو جان بوجھ کر ایک حدیث کو دو بنانے کی سعی نامشکور فرمائی ہے یا انجانے میں ان سے ایسا ہوا ہے۔
غالب گمان یہی ہے کہ انہوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ایک کو دو بنانے کی کوشش کی ہے، شاید انہوں نے کسی اور کتاب میں یہ حدیث تلاش نہیں کی ورنہ وہ اس ایک حدیث کو متعدد احادیث باور کرا دیتے، کیونکہ یہ متعدد کتابوں میں بھی منقول ہے لیکن مدار سب کا ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان پر ہے۔ ہمارے اس گمان کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ انہوں نے سنن بیہقی سے یہ روایت نقل تو فرمائی مگر امام بیہقی نے جو اس حدیث پر کلام کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ قابل استدلال نہیں اس کو کلی طور پر ہضم کر گئے۔ اگر ان کے دل میں انصاف ہوتا اور وہ واقعی تحقیقی جائزہ پیش کر رہے تھے تو امام بیہقی کا فرمان اس حدیث کے بارے میں کیا ہے اس کو ضرور نقل کرتے نیز دیگر محدثین کرام نے اس حدیث پر اور اس کے راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان پر کیا کلام کیا ہے ضرور نقل کرتے لیکن نا ان کے دل میں انصاف ہے اور نا وہ تحقیقی جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں، ان کو صرف فرقہ بندی کو مضبوط کرنا تھا لہذا انہوں نے ایک سخت ضعیف حدیث کو دو الگ الگ کتابوں کے حوالے سے لکھ کر بظاہر یہ تاثر دیا کہ ہمیں رکعت پڑھنے والے دیوبندیوں کے پاس بھی کوئی ثبوت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول نے بیس رکعت تراویح پڑھی تھیں۔
حقیقت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ کتب حدیث میں کوئی ایسی صحیح روایت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اللہ کے رسول نے یا حضرت ابوبکر صدیق یا عمر فاروق نے بیس رکعت کا حکم دیا ہو یا بیس رکعت تراویح پڑھی ہوں، اسی طرح دیگر خلفاء کے بارے میں بھی کوئی روایت صحیح ثابت نہیں ہوسکی۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ خلفاء راشدین کے زمانوں میں بیس یا اس سے زیادہ پڑھتے تھے لیکن ظاہر ہے بحث کا موضوع یہ ہے ہی نہیں، بحث کا موضوع تو یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کتنی رکعت تراویح پڑھی ہیں، جب ہمارے ان دیوبندی عقلمندوں کو کوئی صحیح روایت اس قسم کی ملتی نہیں تو وہ اس کی کمی اس طور پر پوری کرتے ہیں کہ لایعنی اور غیر ثابت دعوے کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں: بیس رکعت پر اجماع ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے بیس کا حکم دیا تھا۔ اور سارے صحابہ نے اس کو مان لیا تھا لہذا یہ اجماع ہوا حالانکہ آج تک نا وہ یہ ثابت کر پائے کہ بیس رکعت تراویح رسول سے بسند صحیح ثابت ہے اور نا یہ کہ بیس رکعت تراویح پر اجماع ہے، اسی طرح آج تک کوئی مقلد بسند صحیح یہ ثابت نہیں کر پایا کہ حضرت عمر نے بیس کا حکم دیا تھا بلکہ اس کے خلاف صحیح احادیث موجود ہیں۔ بہر حال۔ آئیے ذرا قاسمی صاحب کی پیش کردہ دونوں احادیث کا مرکزی راوی کیسا ہے اس کو محدثین کی عدالت میں لے جا کر فیصلہ کراتے ہیں۔
ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان بن خواستی العبسی مولا ہم قاضی واسط محدثین کی عدالت میں۔
① امام احمد بن حنبل، وہ ضعیف ہے عن ابو بکر المروزي۔
② امام احمد بن حنبل منکر الحدیث ہے عن ابو طالب۔
③ یحییٰ بن معین ضعیف ہے۔
④ یحیی بن معین وہ ثقہ نہیں ہے۔
⑤ امام بخاری محدثین نے اس کو نا قابل ذکر قرار دیا۔
⑥ امام ابوداؤد وہ ضعیف الحدیث ہے۔
⑦ امام ترمذی وہ منکر الحدیث ہے۔
⑧ امام ابو حاتم وہ ضعیف الحدیث ہے۔
محدثین نے اس کو قابل ذکر نہیں گردانا۔
محدثین نے اس کی احادیث کو ترک کر دیا۔
معاذ العنبری کہتے ہیں:
میں نے امام شعبہ سے خط لکھ کر ابو شیبہ کے بارے میں پوچھا کیا اس سے حدیث لینا درست ہے امام شعبہ اس وقت بغداد میں تھے انہوں نے مجھے جواباً لکھا اس سے روایت لینا درست نہیں تم اس کی حدیث نہ لو، وہ ایک ناپسندیدہ شخص ہے۔ اور یہ خط پڑھنے کے بعد پھاڑ دینا۔
⑩ ابن سعد وہ حدیث میں ضعیف ہے۔
⑪ دار قطنی وہ ضعیف ہے۔
⑫ ابن المبارک اس کو پھینکو۔
⑬ علامہ زیلعی حنفی وہ ضعیف ہیں۔
⑭ علامہ ابن الھمام حنفی وہ بالا تفاق ضعیف ہے۔
⑮ علامہ بدرالدین عینی امام شعبہ نے ان کی تکذیب کی ہے امام احمد ابن معین بخاری و نسائی وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے اور اس کی منکر روایات کے لیے بطور دلیل اسی حدیث کو امام عدی نے کامل میں پیش فرمایا ہے۔
⑯ علامہ ابوالطيب محمد بن عبد القادر السندھی الخفی وہ ضعیف ہیں۔
⑰ امام ذہبی وہ ضعیف ہیں۔
⑱ علامہ ابوالحسنات عبدالحی فرنگی محلی وہ باتفاق ضعیف ہیں۔
⑲ امام جلال الدین سیوطی یہ حدیث سخت ضعیف ہے قابل حجت نہیں۔
اس کے علاوہ بھی محدثین کرام نے اس حدیث اور اس کے مرکزی راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان کو ضعیف اور نا قابل حجت قرار دیا ہے ایسی روایت کو استدلال میں پیش کرنا جبکہ تمام اجلہ علماء احناف اس کو ضعیف بتا چکے ہیں مفتی شبیر قاسمی کی بے چارگی کی دلیل ہے، ہم کو شک نہیں یقین ہے کہ محدثین کرام کے ان اقوال سے قاسمی صاحب بخوبی واقف ہیں۔ لیکن مجبوری ان کی یہ ہے کہ وہ اپنے دیوبندی مسلک کی حمیت میں ان تمام اقوال سے اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور ایک ایسی بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں جس کو تمام علماء ومحدثین ناکارہ، نا قابل استدلال اور غلط بتا چکے ہیں کیا کریں مجبوری ہے۔
سچ بات جانتے ہیں مگر مانتے نہیں
ضد ہے جناب شیخ فضیلت مآب ہیں
ان دونوں روایات کی حقیقت آپ پر ظاہر ہو چکی ہے، علامہ بدرالدین عینی شارح بخاری کا یہ قول بھی آپ کی نظر سے گزرا ہوگا کہ امام شعبہ نے اس کو جھوٹا بتایا ہے۔ امام سیوطی نے و دیگر محدثین کا یہ قول بھی آپ نے پڑھا ہے کہ یہ حدیث نا قابل حجت ہے پھر بھی قاسمی صاحب کا یہ کہنا:
ان دونوں حدیثوں کو اگر چہ صحیح کا درجہ حاصل نہیں۔ لیکن موضوع بھی نہیں ہے، ان کو اجماع صحابہ کی تائید کے لئے لانے میں کوئی اشکال نہیں۔“
ناظرین غور فرمائیں!
قاسمی صاحب کو یہ تسلیم ہے کہ ان دونوں حدیثوں کا درجہ صحیح کا نہیں ہے لیکن وہ ایک دوسرے غلط دعوے کے لئے اس کو پیش کر رہے ہیں، اس کا صاف مطلب ہے کہ قاسمی صاحب کو خوب معلوم ہے کہ اجماع کا دعوی بھی اسی طرح بے دلیل ہے جس طرح بیس رکعت تراویح کا دعوی اللہ کے رسول سے بے دلیل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک غلط بات کو دوسری غلط بات سے تقویت پہنچائی جاسکتی ہے۔ شاید انہوں نے یہ نہیں پڑھا
خفته را خفته کی کند بے دار
اگر ایک سوتا ہوا شخص دوسرے سوتے ہوئے کو بیدار کرسکتا ہے۔ ایک ڈوبنے والا شخص دوسرے ڈوبنے والے کو پار لگا سکتا ہے، ایک گمراہ دوسرے گمراہ کو راہ راست بتا سکتا ہے۔ تو یقینا مولوی قاسمی کا ایک غلط دعویٰ دوسرے غلط دعوے کو ثابت کر سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں اور ہر گز نہیں تو اس سخت ضعیف اور نا قابل حجت حدیث سے جس کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے ہرگز بے بنیاد اجماع کی تائید ممکن نہیں۔ اور اس طرح قاسمی صاحب کی دونوں بنیادیں زمیں بوس ہو چکی ہیں اب وہ کوئی اور سہارا تلاش کریں۔ جاہلوں کو مطمئن کرنے کے لئے وہی ان کو کام دے گا اور وہ ہے،
ہم مقلد ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں ہمیں دلیل سے کیا لینا دینا، ہمارے لیے قول امام ہی کافی ہے۔ امام صاحب کے پاس ضرور کوئی دلیل رہی ہوگی۔ بس یہی الاپنے اور اسی پر عوام کو ثابت قدم رکھئے، دلائل کی خاردار جھاڑی میں دامن پھنسانا آپ کے لئے نامفید ہے اور بازی ممکن۔