مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا بچے کو صف میں سے ہٹانا جائز ہے؟ مکمل شرعی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

بچے کو صف سے ہٹانا

سوال

کیا بچے کو صف میں اس کی جگہ سے دور ہٹا دینا جائز ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

درست بات یہی ہے کہ بچے کو صف میں اس کی جگہ سے ہٹا دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«لَا يُقِيْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسَ فِيهِ»
(صحيح البخاري، الاستئذان، باب لا يقيم الرجل الرجل من مجلسه، ح: ۶۲۶۹، وصحيح مسلم، السلام، باب تحريم اقامة الانسان من موضعه المباح الذی سبق اليه، ح: ۲۱۷۷ (۲۸) واللفظ له)

ترجمہ:
’’کوئی آدمی کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔‘‘

اس مسئلہ کی وضاحت

❀ بچے کو صف سے ہٹانا اس کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ یہ اس کا حق چھیننا ہے۔

❀ اس عمل سے بچے کی دل آزاری ہوتی ہے، جس سے اس کے اندر نماز کے بارے میں منفی جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔

❀ ایسا رویہ بچے کو نماز سے دور اور متنفر کر سکتا ہے۔

❀ اس کے دل میں دوسرے مسلمانوں کے خلاف بغض اور حسد جنم لے سکتا ہے۔

اگر تمام بچوں کو آخری صف میں پیچھے کر دیا جائے؟

❀ اگر یہ کہا جائے کہ بچوں کو پیچھے کی طرف آخری صف میں کھڑا کر دیا جائے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سب بچے ایک ہی صف میں جمع ہو جائیں گے۔

❀ اس صورت میں بچوں کے کھیلنے اور مسجد میں ہنگامہ کرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

❀ لہٰذا، جب کھیل کود اور غیر مناسب حرکتوں کا اندیشہ ہو، تو ان بچوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا جائز ہے۔

❀ ایسی صورت میں مختلف صفوں میں بچوں کو کھڑا کرنا بہتر ہوگا تاکہ وہ نماز کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھ سکیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔