مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا بچے کو دو سال سے پہلے دودھ چھڑانا جائز ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا بچے کو دو سال سے پہلے دودھ چھڑانا جائز ہے؟

جواب:

والدین باہم رضامندی سے دو سال سے پہلے بھی دودھ چھڑوا سکتے ہیں، بشرطیکہ بچے کی صحت پر اثر انداز نہ ہو۔
فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا
(البقرة: 233)
اگر والدین باہم رضامندی اور مشورے سے دو سال سے پہلے دودھ چھڑوانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔