سوال:
کیا بغلی قبر بنانا مستحب ہے؟
جواب:
بغلی قبر (لحد) بنانا مستحب ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لحدا لي وارموا عليه باللبن كما فعل برسول الله صلى الله عليه وسلم
میرے لیے بغلی قبر تیار کرو اور اس پر اینٹیں لگاؤ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے ساتھ کیا گیا۔
(صحيح مسلم: 966)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارنے کے لیے آپ کی قبر مبارک میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تھے۔ ایک انصاری شخص جو شہدا کی بغلی قبریں کھودتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلی قبر کھودی تھی۔
(المنتقي لابن الجارود: 547، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 2843، مسند البزار: 855، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6633) نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔