کیا بغلی قبر بنانا مستحب ہے؟ احادیث کی روشنی میں

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا بغلی قبر بنانا مستحب ہے؟

جواب:

بغلی قبر (لحد) بنانا مستحب ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لحدا لي وارموا عليه باللبن كما فعل برسول الله صلى الله عليه وسلم
میرے لیے بغلی قبر تیار کرو اور اس پر اینٹیں لگاؤ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے ساتھ کیا گیا۔
(صحيح مسلم: 966)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارنے کے لیے آپ کی قبر مبارک میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تھے۔ ایک انصاری شخص جو شہدا کی بغلی قبریں کھودتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلی قبر کھودی تھی۔
(المنتقي لابن الجارود: 547، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 2843، مسند البزار: 855، وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6633) نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️