کیا بس نماز پڑھنا کافی ہے؟ خواہ کیسی ہی ہو اور طریقہ جو بھی ہو؟

فونٹ سائز:
تحریر: حافظ سعید الرحمن ہزاروی
مضمون کے اہم نکات

نماز کیسے ادا کریں؟

الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه و الصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، أما بعد:

ہمارے معاشرے میں یہ بات بڑی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے کہ بس نماز پڑھنی چاہیے خواہ کیسی ہی ہو اور طریقہ جو بھی ہو ، یہ سوچ اور فکر و نظر یہ بالکل درست نہیں۔

یہ بات تو بالکل درست ہے کہ نماز پڑھنی چاہیے ، کیونکہ یہ اہل اسلام و ایمان پر فرض ہے، لیکن یہ کہنا کہ جس طرح مرضی ہو اسی طرح پڑھ لو یہ بات درست نہیں ، قرآن وحدیث اس بات کی تائید نہیں کرتے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة)

’’یقینا تمھارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے۔‘‘

(الاحزاب: ۲۱)

یہ آیت اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے عین مطابق افتد او پیروی کرنا ضروری ہے، اس میں انسان کی مرضی کا عمل دخل قطعا نہیں ہے۔

ہم جس موضوع کو بیان کرنا چاہتے ہیں، یعنی ’’نماز کیسے ادا کریں؟‘‘ اس میں خصوصی حکم ہے کہ نماز طریقہ نبوی کے مطابق ہونی چاہیے۔

سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی الله عنه کا بیان ہے.

رأيت رسول الله صلى ما عليها وكبر وهو عليها ، ثم ركع وهو عليها، ثم نزل القهقرى، فسجد في أصل المنبر ثم عاد ، فلما فرغ أقبل على الناس، فقال: ((أيها الناس، إنما صنعت هذا لتاتقوا ولتعلموا صلاتي ))

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اُسی پر (یعنی منبر پر کھڑے ہو کر) نماز پڑھائی ، اُس پر کھڑے کھڑے تکبیر کہی ، اس پر رکوع کیا ، پھر اُلٹے پاؤں لوٹے اور منبر کی اصل (جڑ) میں سجدہ کیا اور پھر منبر پر لوٹ آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ (عمل) اس لیے کیا ہے تا کہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو ۔

(صحيح البخاري: 917)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر تعلیم وتربیت اور اپنی نماز کا طریقہ سکھانے کے لیے نماز پڑھائی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز سکھانے کا مطلب اور مقصد (لتا تموا) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے، اگر ہر کسی نے نماز اپنی مرضی سے پڑھنی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ نماز سکھاتے اور نہ پیروی ہی کا حکم فرماتے ، لہذا ہمیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ سیکھنا چاہیے اور آپ کے طریقے کے مطابق نماز ادا کر کے پیروی کا عملی ثبوت دینا چاہیے، نماز میں اپنی مرضی کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی والا طریقہ اپنانا چاہیے۔

◈سیدنا مالک بن حویرث رضی الله عنه سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب ہم عمر اور نوجوان تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس دن اور بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی رحمل تھے ، جب آپ نے دیکھا کہ ہمیں اپنے گھروں کو واپس جانے کا شوق ہے تو آپ نے پوچھا: ’’اپنے گھر میں کس کو چھوڑ آئے ہو؟‘‘ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا (یعنی گھر میں کس کو چھوڑا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((ارجعوا إلى أهليكم فأقيموا فيهم وعلموهم ومروهم ….. وصلوا كما رأيتموني أصلي، فإذا حضرت الصلاة فليودن لكم أحدكم، وليؤمكم أكبركم))

’’تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور ان کے ساتھ رہو اور انھیں تعلیم دو اور ان کو حکم دو. اور اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پس جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک ( آدمی ) اذان کہے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے ۔‘‘

(صحيح البخاري: 631)

اس حدیث مبارکہ میں یہ الفاظ نہایت قابل توجہ ہیں :

((صلوا كما رأيتموني أصلي))

’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

اگر نماز اپنی مرضی سے پڑھنی ہوتی تو پھر ان الفاظ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی ، لہذا یہ ضروری ہے کہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے:

((صلوا كما رأيتموني أصلي))

یہ حدیث مبارکہ بھی اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اختیار کیا جائے اور اپنی مرضی سے نماز پڑھنے کے اصول سے اجتناب کیا جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ہی نماز میں پسند کیا جائے اور اسی کے مطابق نماز ادا کی جائے۔

صحابہ کرام رضی الله عنه اور نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

صحابہ کرام رضی الله عنه آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق وضو، نماز ، صف بندی، رکوع و سجود اور قیام کرتے تھے۔

عن أبي قلابة، قال: جاءنا مالك بن الحويرث، فصلى بنا في مسجدنا هذا، فقال: إني لأصلي بكم وما أريد الصلاة، ولكن أريد أن أريكم كيف رأيت النبي صلی اللہ علیہ وسلم يصلي ….. إلخ

ابو قلابہ رحمہ اللہ کا بیان ہے، ہمارے پاس سیدنا مالک بن حویرث رضی الله عنه تشریف لائے ، انھوں نے ہمیں ہماری مسجد میں نماز پڑھائی ، پھر انھوں نے کہا: میں تمھیں نماز پڑھا رہا ہوں اور میرا ارادہ نماز پڑھانے کا نہیں، لیکن میرا ارادہ یہ ہے کہ میں تمھیں دکھاؤں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

(صحیح البخاري:824)

فائدہ:

سیدنا مالک بن حویرث رضی الله عنه نے طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سکھانے کی غرض سے نماز پڑھائی تا کہ لوگوں کو نبوی نماز کا صحیح اور درست طریقہ معلوم ہو ۔ (سبحان اللہ)

لہذا ہمیں بھی درست اور صحیح طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نماز پڑھنی چاہیے نہ کہ اپنی مرضی کے مطابق نماز پڑھی جائے۔

عن أنس بن مالك رضی الله عنه ، قال: إني لا الو أن أصلي بكم ، كما رأيت النبي صلی اللہ علیہ وسلم يصلى بنا …. الخ ۔

سیدنا انس رضی الله عنه بیان کرتے ہیں، بلا شبہ میں تمھیں نماز پڑھانے میں اُس طریقے میں بالکل کمی نہیں کرتا ، جس طریقے سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

(صحیح البخاري:821)

فائدہ:

سیدنا انس رضی الله عنه مکمل طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھاتے تھے اور اس طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کسی قسم کی کوئی کمی و کوتا ہی نہیں کرتے تھے۔

ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو نبوی نماز کے طریقہ کی راہنمائی کریں اور اس کے لیے احادیث مبارکہ کو خود بھی پڑھیں اور لوگوں کو بھی پڑھائیں ۔ مثلاً :

کتاب الصلاة من صحيح البخاري اسی طرح دیگر کتب احادیث کی کتاب الصلاۃ کو خوب اچھی طرح پڑھ کر خود بھی عمل کیا جائے اور دوسروں کی بھی راہنمائی کی جائے۔

أن حمران مولى عثمان أخبره أنه ، رأى عثمان بن عفان دعا بإناء، فأفرغ على كفيه ثلاث مرار ، فغسلهما ، ثم أدخل يمينه في الإناء ، فمضمض، واستنشق ، ثم غسل وجهه ثلاثا، ويديه إلى المرفقين ثلاث مرار ، ثم مسح برأسه ، ثم غسل رجليه ثلاث مرار إلى الكعبين ، ثم قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من توضأ نحو وضوئي هذا، ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه، غفر له ما تقدم من ذنبه .

حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی الله عنه کو دیکھا، انھوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا ، پھر انھیں دھویا ، پھر انھوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ناک صاف کیا ( ناک کو جھاڑا) پھر تین بارا اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے ( یعنی باز و دھوئے ) پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں مخنوں تک تین بار دھوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے میرے اس (وضو کی طرح ) وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں اپنے نفس میں کوئی بات نہ کرے (یعنی ادھر اُدھر کے خیالات میں مشغول نہ ہو) تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

(صحیح البخاري: 159)

صحیح مسلم (227) میں یہ الفاظ ہیں:

ثم قال رأيت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم توضأ نحو وضوني هذا .

میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا۔

فائدہ:

صحابہ کرام رضی الله عنه وضو بھی عین اسی طرح کرتے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔

اسی طرح کا واقعہ سیدنا علی رضی الله عنه سے بھی مروی ہے جس میں انھوں نے تعلیم و تربیت کے لیے وضو سکھایا اور وضو کے بعد فرمایا :

من سره أن يعلم وضوء رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فهو هذا .

جسے پسند ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو معلوم کرے تو یہی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ) ہے۔

(سنن أبي داود : 111 وسنده صحيح)

سیدنا نعمان بن بشیر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ ’’أقبل رسول الله ما على الناس بوجهه ، فقال: ((أقيموا صفوفكم ثلاثا ((والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم قال: فرأيت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعبه .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ انور کیا، پھر فرمایا: ’’اپنی صفیں برابر کر لو ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ دھرائی۔ ’’اللہ کی قسم ! ( ایسا ضرور ہوگا ) یا تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمھارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔‘‘ سیدنا نعمان رضی الله عنه کہتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔

(سنن أبي داود: 662، صحیح)

فائدہ:

صحابہ کرام رضی الله عنه نماز میں صف بندی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کیا کرتے تھے اپنی مرضی سے فاصلہ رکھ کر دور دور یا آگے پیچھے نہیں کھڑے ہوتے تھے، لہذا ہمیں بھی اپنی مرضی چھوڑ کر سنت کے مطابق ہی صف بندی کرنی چاہیے۔

گزشتہ تمام دلائل اس نظریے کی مکمل تردید کرتے ہیں کہ نماز جس طرح مرضی پڑھی جائے ، بلکہ نماز اس طرح پڑھنی چاہیے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے اس میں اپنی مرضی کو دخل دینا کسی صورت درست نہیں ہے۔