سوال:
کیا بارش کی صورت میں دو نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں؟
جواب:
بارش میں دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:
لم يختلف علماء الحجاز أن الجمع بين الصلاتين فى المطر جائز
”علمائے حجاز کا اتفاق ہے کہ بارش میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔“
(صحيح ابن خزيمة: 85/2)
❀ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو بغیر کسی خوف اور بارش (ایک روایت میں بغیر کسی خوف اور سفر) کے جمع کیا۔ (سعید بن جبیر کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر مشقت نہ ہو۔“
(صحیح مسلم: 705)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا جميعا، وسبعا جميعا؛ الظهر والعصر، والمغرب والعشاء
”میں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ظہر اور عصر کی آٹھ رکعات اور مغرب و عشاء کی سات رکعات جمع کر کے پڑھیں۔“
(صحيح البخاري: 543، 1174، صحیح مسلم: 55/705)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
”سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جن دو نمازوں کو جمع کرنے کا ذکر کیا ہے، وہ نہ خوف کی وجہ سے تھیں، نہ بارش کی وجہ سے۔ اس حدیث سے امام احمد رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ خوف اور بارش میں تو بالاولی نمازیں جمع ہوگی۔ مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان امور میں نمازوں کو جمع کرنا بالاولی جائز ہے۔ یہ تنبیہ بالفعل کی قبیل سے ہے۔ جب خوف، بارش اور سفر کے بغیر درپیش مشقت کو ختم کرنے کے لیے دو نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے، تو ان اسباب کی مشقت کو ختم کرنا تو بالاولی جائز ہوگا، لہذا خوف، بارش اور سفر کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا دیگر امور کی بنا پر جمع کی نسبت اولی ہو گا۔“
(مجموع الفتاوى: 76/24)
❀ نافع مولی ابن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”جب بارش والی رات ہوتی تو ہمارے امرا مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے اور شفق (سرخی) غائب ہونے سے پہلے عشاء کے ساتھ جمع کر لیتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ ہی نماز پڑھتے تھے اور اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔ عبید اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم رحمہما اللہ کو دیکھا کہ وہ دونوں ایسی رات میں امرا کے ساتھ مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے۔“
(المؤطأ للإمام مالك: 331، السنن الكبرى للبيهقي: 168/3، وسنده صحيح)
❀ ہشام بن عروہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”میں نے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کو بارش والی رات مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کرتے دیکھا۔ عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، ابو بکر بن عبدالرحمن اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہم اللہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 234/2، السنن الكبرى للبيهقي: 168/3، وسنده صحيح)
❀ عبد الرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو امرا کے ساتھ بارش والی رات میں مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 234/2، وسنده حسن)
❀ ابو مودود عبد العزیز بن ابو سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”میں نے ابو بکر بن محمد رحمہ اللہ کے ساتھ مغرب و عشاء کی نماز پڑھی، انہوں نے بارش والی رات میں دونوں نمازوں کو جمع کیا تھا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 234/2، وسنده حسن)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
هذه الآثار تدل على أن الجمع للمطر من الأمر القديم، المعمول به بالمدينة زمن الصحابة والتابعين، مع أنه لم ينقل أن أحدا من الصحابة والتابعين أنكر ذلك، فعلم أنه منقول عندهم بالتواتر جواز ذلك
”ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنا ایسا معاملہ ہے جو شروع سے چلا آ رہا ہے۔ اس پر صحابہ و تابعین کرام کے دور میں مدینہ میں بھی عمل ہوتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی ایک بھی صحابی سے اس پر اعتراض کرنا منقول نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ و تابعین سے بالتواتر اس کا جواز منقول ہے۔“
(مجموع الفتاوى: 83/24)
❀ مولانا عبدالشکور لکھنوی فاروقی لکھتے ہیں:
”امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سفر میں اور بارش میں بھی دو نمازوں کا ایک وقت میں پڑھ لینا جائز ہے اور ظاہر احادیث سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے، لہذا اگر کسی ضرورت سے کوئی حنفی بھی ایسا کرے تو جائز ہے۔“
(علم الفقہ، حصہ دوم، ص: 150)
یاد رہے کہ بارش کی صورت میں جمع تقدیم و تاخیر، دونوں جائز ہیں۔ تقدیم میں زیادہ آسانی ہے، نیز جمع صوری کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔