سوال
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جس جگہ یا مصلیٰ پر ایک مرتبہ نماز پڑھ لی جائے، وہاں دوبارہ جماعت نہیں ہو سکتی۔ اس لیے نماز کے لیے جگہ تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے، یعنی آگے یا پیچھے ہٹ کر نماز ادا کرنی چاہیے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
﴿وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ﴾
(ترجمہ: رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو)
اس آیت کریمہ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا عمومی حکم دیا گیا ہے، اور اس میں یہ تخصیص کہیں نہیں کی گئی کہ صرف پہلی جماعت ہی مراد ہے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا:
«صَلٰوۃُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلٰوۃَ الْفَذِّ»
(بخاری: کتاب الجماعة والامامة، مسلم: کتاب المساجد، باب فضل صلاة الجماعة)
"جماعت کے ساتھ نماز، انفرادی نماز پر فضیلت رکھتی ہے”
یہ حدیث بھی عمومی طور پر جماعت کی فضیلت بیان کرتی ہے اور اس میں یہ قید یا تخصیص نہیں کہ یہ فضیلت صرف پہلی جماعت تک محدود ہے۔
امام راتب کی جگہ دوسرے امام کا کھڑا ہونا
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسجد میں امامِ راتب (مستقل امام) کی امامت کے بعد کوئی دوسرا امام (غیر راتب) دوبارہ جماعت کروانا چاہے تو کیا وہ اسی جگہ (یعنی امامِ راتب کی جگہ) پر کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں؟
اس بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ملحوظ رکھا جائے گا:
«وَلاَ یُجْلَسُ عَلٰی تَکْرِمَتِہٖ اِلاَّ بِاِذْنِہِ»
(ترمذی، جلد اول، ابواب الصلوة، باب من احق بالامامة، ص 55)
"کسی کی عزت والی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو”
اس حدیث کی روشنی میں امامِ راتب کی مخصوص جگہ پر بغیر اجازت کھڑا ہونا مناسب نہیں۔ لہٰذا اگر دوسری جماعت کروانی ہو تو بہتر یہ ہے کہ امامِ راتب کی جگہ سے ہٹ کر امامت کی جائے، یا پھر ان کی اجازت حاصل کی جائے۔
خلاصہ
◈ قرآن اور حدیث میں جماعت کی فضیلت کا عمومی حکم ہے، صرف پہلی جماعت کی قید نہیں۔
◈ دوبارہ جماعت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ امامِ راتب کی مخصوص جگہ کی تعظیم کا لحاظ رکھا جائے۔
◈ امامِ راتب کی جگہ پر بغیر اجازت کھڑا ہونا نبی ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب