کیا ایک بار دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا ایک مرتبہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہوتی ہے، بعض لوگ اس بارے میں روایات پیش کرتے ہیں؟

جواب:

بعض حضرات کہتے ہیں کہ ایک دفعہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ ان کے دلائل کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے:
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ، قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ
رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
جھوٹی روایت ہے:
1. توثیق معلوم نہیں۔
2. (جامع مسانيد الإمام أبي حنيفة للخوارزمي: 97/2)
صاحب کتاب محمد بن محمود بن محمد بن حسن، ابو الموید (593-655ھ) کی ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب، حارثی متروک اور کذاب ہے۔
ابراہیم بن جراح کی سوائے ابن حبان (الثقات: 69/8) کے کسی نے توثیق نہیں کی، لہذا یہ مجہول الحال ہے۔
احمد بن عبد اللہ، کندی کو ذہبی نے صاحب مناکیر کہا ہے۔
❀ ابن عدی فرماتے ہیں:
له مناكير بواطيل
اس نے منکر اور باطل روایات بیان کی ہیں۔
(لسان الميزان لابن حجر: 199/1)
دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (لسان الميزان: 199/1)
اس کا ثقہ ہونا ثابت نہیں۔
حکم بن عتیبہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
قاضی ابو یوسف جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔
ان کے استاد باتفاق محدثین ضعیف ہیں۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے کسی نے حدیث لا تحرم الرضعة ولا الرضعتان ایک دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی پیش کی تو آپ نے فرمایا:
قد كان ذاك، فأما اليوم، فالرضعة الواحدة تحرم
پہلے ایسا ہی تھا، لیکن آج کے دور میں ایک دفعہ دودھ پینے سے ہی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔
یہ قول سخت ضعیف ہے:
(أحكام القرآن للجصاص: 125/2)
1. ابو خالد احمر مدلس ہے، سماع کی تصریح نہیں کی۔
2. حجاج بن ارطاة جمہور ائمہ محدثین کے نزدیک ضعیف اور سیء الحفظ ہے، نیز مدلس بھی ہے۔
3. حبیب بن ابی ثابت مدلس ہے، سماع کی تصریح نہیں کی۔
علی بن ابی طالب اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے تھے:
يحرم من الرضاعة، قليله وكثيره
رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ، حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
(سنن النسائي: 3313)
سند ضعیف ہے۔ سعید بن ابی عروبہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
مسلم اصول ہے کہ صحیح بخاری و مسلم کے علاوہ ثقہ مدلس کا عنعنہ مقبول نہیں ہوتا۔
تنبیہ: عبد اللہ بن عمر (مصنف عبد الرزاق: 466/7، ح: 13911، وسنده صحيح)، طاؤس بن کیسان (مصنف عبد الرزاق: 467/7، ح: 13918، وسنده صحيح) اور عطاء بن ابی رباح (مصنف عبد الرزاق: 466/7، وسنده صحيح) کے نزدیک ایک بار دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، لیکن صحیح احادیث کے مقابلہ میں یہ اقوال مرجوح ہیں۔