کیا ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

کیا ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے؟

جواب :

ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، تمام اہل حق کا یہی مذہب ہے۔
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اتفقت الصحابة والتابعون، فمن بعدهم من علماء السنة على أن الأعمال من الإيمان وقالوا : إن الإيمان قول، وعمل، وعقيدة، يزيد بالطاعة، وينقص بالمعصية على ما نطق به القرآن فى الزيادة، وجاء فى الحديث.
”صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد والے سنی علماء کا اسی بات پر اجماع ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں ، نیز ان کا کہنا ہے کہ ایمان قول عمل اور عقیدے کا نام ہے، یہ اطاعت سے زیادہ ہوتا ہے اور معصیت سے کم ہوتا ہے ، جیسا کہ قرآن وحدیث نے اس کی زیادت کو بیان کیا ہے۔“
(شرح السنة :38/1)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يخرج من النار من قال لا إله إلا الله، وفي قلبه وزن شعيرة من خير، ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله، وفي قلبه وزن برة من خير، ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله، وفي قلبه وزن ذرة من خير.
”جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو کے برابر خیر (ایمان) ہوا، وہ آگ سے نکل جائے گا، جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ( ایمان ) ہوا، وہ جہنم سے نکل جائے گا اور جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی خیر (ایمان) ہوا، وہ جہنم سے نکل جائے گا۔“
(صحيح البخاري : 44 ، صحیح مسلم : 193 )
صحیح بخاری میں ”من خیر“ کی جگہ ”من ایمان“ کے الفاظ ہیں۔
❀ علامہ طیبی رحمہ اللہ (743ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على زيادة الإيمان ونقصانه وهو منهب أهل السنة.
”یہ حدیث دلیل ہے کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، یہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔“
(شرح الطيبي : 3531/11)
اس بارے میں اور بھی بہت سی آیات و احادیث موجود ہیں ، نیز اس پر سلف وخلف کا اجماع بھی ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️