سوال:
کیا اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے؟
جواب:
اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی پاک دامن عورتیں، خواہ وہ ذمی ہوں یا حربی، سے نکاح جائز ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ
(سورۃ المائدہ: 5)
جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی، ان کی پاک دامن عورتوں سے نکاح جائز ہے، بشرطیکہ تم ان کا مہر ادا کرو، تمہارا مقصد پاکدامنی حاصل کرنا ہو، علانیہ زنا یا پوشیدہ طور پر آشنائی کی نیت نہ ہو۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
جب یہ آیت نازل ہوئی:
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ
(سورۃ البقرہ: 221)
تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔
تو لوگ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ
(سورۃ المائدہ: 5)
تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی، ان کی پاک دامن عورتوں سے نکاح جائز ہے۔
تو لوگ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے لگے۔
(تفسير ابن أبي حاتم، نقلًا عن تفسير ابن كثير: 3/42، المعجم الكبير للطبراني: 12/105، وسنده حسن)
❀ امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالیٰ:
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ
(سورۃ البقرہ: 221)
تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔
کے بارے میں فرماتے ہیں:
مشركات العرب الذين يعبدون الأوثان
(تفسير ابن كثير: 1/584)
اس سے مراد مشرکین عرب کی عورتیں تھیں، جو کہ بتوں کی پوجا کرتی تھیں۔
اہل کتاب سے مراد اہل تورات و اہل انجیل ہیں۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
أَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا
(سورۃ الأنعام: 156)
کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر نازل کی گئی تھی۔
لہذا عیسائیوں، یہودیوں کے علاوہ مجوسیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت والوں اور دیگر کافر اقوام کی پاک عورتوں سے نکاح قطعاً جائز نہیں، الا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔
اس دور میں اکثر اہل کتاب دہریہ ہیں، وہ کسی آسمانی مذہب کے پیروکار نہیں، ان کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م: 774ھ) لکھتے ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے عیسائی عورتوں سے نکاح کیا اور اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا۔ اگر اہل کتاب کی عورتوں کو سورۃ البقرہ کی آیت:
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ
(سورۃ البقرہ: 221)
مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔
کے عموم میں داخل سمجھا جائے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں اس آیت سے خاص سمجھا:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ
(سورۃ المائدہ: 5)
تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی، ان کی پاک دامن عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو۔
اگر اہل کتاب کی عورتوں کو سورۃ البقرہ والی آیت کے عموم میں داخل نہ سمجھا جائے، تو دونوں آیات میں کوئی معارضہ ہے ہی نہیں، کیونکہ اور بھی بہت سی آیات میں عام مشرکین سے اہل کتاب کو الگ بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ
(سورۃ البینہ: 1)
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے، وہ کفر سے باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل نہ آتی۔
❀ نیز فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا
(سورۃ آل عمران: 20)
اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی اللہ کے فرمانبردار بنتے اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں، تو بیشک ہدایت پا لیں گے۔
(تفسير ابن كثير: 3/42)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کے متعلق سوال کیا گیا، تو فرمایا:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں فتوحات کے دور میں کوفہ میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرتے تھے۔ اس وقت مسلمان عورتوں کی کثرت نہیں تھی۔ جب ہم کوفہ سے واپس آئے، تو اہل کتاب کی عورتوں کو طلاق دے دی۔ اہل کتاب کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں، جبکہ ہماری عورتیں ان پر حرام ہیں۔
(مصنف عبدالرزاق: 12677، وسنده صحيح)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
تزوج طلحة رضي اللہ عنه يهودية
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 7/172، وسنده حسن)
عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری اشہلی تابعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
إن حذيفة بن اليمان نكح يهودية
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 7/172، وسنده حسن)
ابو وائل شقیق بن سلمہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا کہ آپ اس سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: کیا آپ اسے حرام خیال کرتے ہیں، اس لیے علیحدگی اختیار کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں اسے حرام تو خیال نہیں کرتا، البتہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں تم بدکار یہودی عورتوں سے نکاح نہ کر لو۔
(تفسير الطبري: 4/366، مصنف ابن أبي شيبة: 4/157/2، وسنده صحيح)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ (م: 458ھ) فرماتے ہیں:
هذا من عمر رضي اللہ عنه علىٰ طريق التنزيه والكراهة
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام تنزیہی اور کراہت کی بنا پر تھا۔
(السنن الكبرى: 7/280، دار الكتب العلمية، بيروت، 2003ء)
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (م: 319ھ) فرماتے ہیں:
لا يصح عن أحد من الأوائل أنه حرم ذلك
اولین میں کسی سے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو حرام کہنا ثابت نہیں۔
(الإشراف علىٰ مذاهب العلماء: 1/75)
❀ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (م: 463ھ) فرماتے ہیں:
لا أعلم خلافا فى نكاح الكتابيات الحرائر
اہل کتاب کی آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کے جواز پر مجھے اختلاف معلوم نہیں۔
(الاستذكار: 5/496)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م: 774ھ) لکھتے ہیں:
امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ نے کتابیہ کے ساتھ نکاح مباح ہونے پر اجماع نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صرف ناپسند کیا ہے، تاکہ لوگ مسلمان عورتوں کی طرف بے رغبتی کا مظاہرہ نہ کریں، یا اس کے علاوہ کوئی اور مصلحت بھی ہو سکتی ہے۔
(تفسير ابن كثير: 1/583)
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (م: 855ھ) لکھتے ہیں:
لا خلاف فى تزويج الكتابيات
اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی اختلاف نہیں۔
(البناية شرح الهداية: 5/46)
❀ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا بأس بنكاح نساء أهل الكتاب
اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔
(مصنف عبدالرزاق: 12666، وسنده صحيح)
❀ علامہ طحطاوی حنفی رحمہ اللہ (م: 1231ھ) لکھتے ہیں:
إن الله تعالىٰ أباح نكاح الكتابيات
اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کو مباح قرار دیا ہے۔
(حاشية الطحطاوي علىٰ مراقي الفلاح، ص 565)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں سمجھتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 4/157/2، وسنده حسن)
دراصل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت والی آیت کو عام سمجھتے تھے، اہل کتاب کی عورتوں کو اس سے خاص نہیں کرتے تھے، جبکہ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس آیت سے اہل کتاب کی عورتوں کو مستثنیٰ قرار دیتے تھے اور یہی بات عین صواب ہے۔ امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ اہل کتاب کی حربی عورتوں سے نکاح ناجائز سمجھتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 4/158/2، وسنده صحيح)
حربی یا غیر حربی کی کوئی قید نہ کتاب و سنت میں مذکور ہے، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کی۔
الحاصل:
اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے نکاح جائز ہے۔