سوال:
کیا انبیا کے خواب وحی ہوتے ہیں؟
جواب:
انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ
(سورة الصافات: 102)
(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني أريت دار هجرتكم، ذات نخل بين لابتين وهما الحرتان، فهاجر من هاجر قبل المدينة، ورجع عامة من كان هاجر بأرض الحبشة إلى المدينة
مجھے خواب میں تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے، وہاں کھجور کے درخت ہیں، جو دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہیں۔ تو ہجرت کرنے والوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جن صحابہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، ان میں سے اکثر صحابہ بھی مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
(صحيح البخاري: 3905)
❀ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رأيت فى المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل، فذهب وهلي إلى أنها اليمامة أو هجر، فإذا هي المدينة يثرب
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں، جہاں کھجور کے درخت ہیں، میرا گمان یہ تھا کہ وہ زمین یمامہ یا ہجر ہوگی، مگر وہ مدینہ یثرب تھی۔
(صحيح البخاري: 3622، صحیح مسلم: 2272)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
رؤيا الأنبياء وحي، فإنها معصومة من الشيطان، وهذا باتفاق الأمة
انبیا کے خواب وحی ہوتے ہیں، یہ شیطان سے محفوظ ہوتے ہیں، اس پر امت کا اتفاق ہے۔
(مدارج السالكين: 75/1)