سوال:
کیا انبیائے کرام علیہم السلام جھوٹ بول سکتے ہیں؟
جواب:
انبیائے کرام علیہم السلام تبلیغ رسالت میں معصوم ہیں۔ وہ جھوٹ کا ارتکاب نہیں کر سکتے، نہ تبلیغ رسالت میں انہیں بھول ہو سکتی ہے۔ اس پر امت کا اجماع ہے۔
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
معصومون من الكفر والبدعة إلا من خالف من الخوارج ممن لا يعتد به، وأجازت الروافض عليهم إظهار كلمة الكفر تقية، والإجماع قائم على أن الكذب عليهم فى تبليغ الشرائع والأحكام الإلهية لا يجوز، وكذلك النسيان قبل التبليغ
انبیائے کرام علیہم السلام کفر اور بدعت کے ارتکاب سے معصوم ہیں، البتہ خوارج نے مخالفت کی ہے، جن کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں۔ روافض کہتے ہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام تقیہ کرتے ہوئے کلمہ کفر کا اظہار کر سکتے ہیں، جبکہ اس پر اجماع ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام شریعت اور احکام الہیہ کی تبلیغ میں جھوٹ نہیں بول سکتے، نیز انہیں کسی شرعی حکم کی تبلیغ سے پہلے بھول نہیں ہوتی۔
(الإعلام بفوائد عمدة الأحكام: 3/255)