کیا امت مسلمہ شرک میں مبتلا ہو سکتی ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کیا امت مسلمہ شرک میں مبتلا ہو سکتی ہے؟

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امت مسلمہ شرک میں مبتلا ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کی بہت سی احادیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کے سرین ذو الخلصہ کے گرد ہلیں گے (یعنی وہ اس کا طواف کریں گی) ذو الخلصہ قبیلہ دوس کا بت تھا جس کو وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے۔

[بخاری، کتاب الفتن باب تغير الزمان حتى تعبد الأوثان:7116]،[مسلم، كتاب الفتن، باب لا تقوم الساعة حتى تعبد دوس ذا الخلصة: 2906]

لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين و حتى يعبدوا الأوثان

قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکوں سے جاملیں گے اور بتوں کی عبادت کریں گے۔

[ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون:2219]

③ تم اگلے لوگوں کے طور طریقوں پر چلو گے بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ یہاں تک کہ اگر وہ گور پھوڑ (سانڈے) کے سوراخ میں گھیں گے تو تم بھی گھس جاؤ گے۔“صحابہ رضي اللہ عنہم نے عرض کی : اے اللہ کے پیارے رسولﷺ! کیا اگلے لوگوں سے یہود و نصاری مراد ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا:” اور کون؟

[بخاری، کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب قول النبي ﷺ: لتتبعن سنن من كان قبلكم:7320،3456]،[مسلم، کتاب العلم، باب اتباع سنن اليهود و النصارى:2669]

اور قرآن میں جگہ جگہ ہے کہ یہود اور نصاری مشرک ہیں۔ قرآن کی مندرجہ ذیل آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاری شرک کے مرتکب ہوئے ہیں۔

Haq-Ki-Talash_page-0098

وہ شرک فی الحکم کر رہے ہیں:

[قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ لَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ]،[وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِـُٔوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ]،[اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]

[لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں] ،[اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کا اپنے مونہوں کا کہنا ہے، وہ ان لوگوں کی بات کی مشابہت کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں] ،[انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں] [التوبة: 29 تا 31]

مندرجہ بالا آیات سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

① اہل کتاب کا اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں کیونکہ وہ مشرک ہیں۔

② اہل کتاب نے شرک فی الذات کیا۔

③ ایسا کرنا کفر و شرک ہے۔

④ انھوں نے اللہ کے احکامات ماننے کے بجائے اپنے مولویوں اور درویشوں (پیروں) کے احکامات مانے۔

⑤ انھوں نے عیسی علیہ السلام کو اپنا رب (یعنی) داتا بنا لیا۔

⑥ انھوں نے شرک فی العبادۃ کیا۔

وہ شرک فی الذات کر رہے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔

مزید حوالہ جات:[ المائدة: 17، 72 تا 77]،[ البقرة: 117،116]،[ النساء:171 تا 173]،[یونس:68 تا 70]،[الكهف:5،4]،[مریم:36،35 اور88 تا95]

وہ شرک فی العبادت کر رہے ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔

(مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [المائدة:117،116]،[البقرة:83، 133 تا 138]،[آل عمران:62 تا 64، 80،79]،[النساء:172،171]،[المائدة: 72 تا 77]

وہ شرک فی التصرف کر رہے ہیں:

[لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ]،[لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ]،[اَفَلَا یَتُوۡبُوۡنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]،[مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ]،[قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ]،[قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ]

[لاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے، اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں]،[ بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا]،[توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے]،[نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، یقینا اس سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے اور اس کی ماں صدیقہ ہے، دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ ان کے لیے ہم کس طرح کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، پھر دیکھ کس طرح پھیرے جاتے ہیں]،[کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمھارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے]،[کہہ دے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے]

[سورۃ المائدۃ:72 تا 77]

ان آیات سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

① نبی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ انسانی شکل میں اللہ ہی ہے، کفر ہے ۔

② اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔

③ اللہ نبیوں کا بھی رب (یعنی) داتا ہے اور باقی لوگوں کا بھی۔

④ عیسائی مشرک ہیں اور جو کوئی بھی شرک کرے اس پر جنت حرام ہے۔

⑥ شرک یہ ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کی جائے، غیر اللہ کو داتا مانا جائے ۔

⑥ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا معبود ہے۔

⑦ مشرک اگر تو بہ کرے اور اللہ تعالی سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔

⑧ اللہ تعالیٰ نے کئی رسول بھیجے ہیں، وہ کھانا کھاتے تھے، اس لیے وہ اللہ کی ذات میں سے نہ تھے۔

⑨ نبیوں کی عبادت منع ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک نہیں۔

⑩ نبیوں کی عبادت اس لیے بھی منع ہے کیونکہ لوگوں کی پکار اور احوال کو صرف اللہ تعالیٰ ہی سنتا اور جانتا ہے۔

⑪ من دون اللہ (یعنی) اللہ کے سوا سے یہاں مراد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم علیہ السلام ہیں۔

⑫ عیسائیوں نے سیدنا عیسی علیہ السلام اور سیدہ مریم علیہ السلام کے معاملہ میں غلو سے کام لیا (یعنی) جو اللہ کے حقوق تھے وہ ان کو دے دیے۔

⑬ عیسائیوں نے اللہ کے احکام ماننے کی بجائے دوسروں کی خواہش کی پیروی کی۔

⑭ ایسا کرنے والے لوگ خود بھی گمراہ ہو گئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر گئے۔

  • چونکہ اہل کتاب مشرک ہیں: لہذا ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔ ہر مشرک کا یہی حکم ہے، جیسے مشرکین مکہ، حالانکہ یہ سب ملت ابراہیم پر ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ دیکھیے: (تفسیر مراد آبادی:135/2، ف(246)
  • وہ شرک فی العلم کر رہے ہیں: جیسا کہ (سورۃ مائدہ:117،116) میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی سیدنا عیسی علیہ السلام سے پوچھے گا کہ اے عیسی (علیہ السلام)! کیا تو نے اپنی امت کو حکم دیا تھا کہ میری اور میری ماں مریم (علیہ السلام) کی پوجا کرو؟ تو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے دربار میں قیامت والے دن عرض کریں گے کہ میں نے تو ان کو یہی حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے لیکن جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو اس کے بعد جو کچھ انھوں نے کیا وہ تو ہی بہتر جانتا ہے، مجھے علم نہیں۔
  • اہل کتاب غلو کر رہے ہیں: جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔ غلو کا مطلب ہے اعتدال کا راستہ چھوڑ دینا، یہ افراط و تفریط دونوں صورتوں میں ہے۔
  • غلو کے لیے دیکھیے: (النساء:171 تا 175)،(المائدة:72 تا 77)
  • نصاری عیسی علیہ السلام کو پکارتے ہیں: (بنی اسرائیل:57،56)،(دیکھیے: تفسیر مراد آبادی وترجمه احمدرضا خان صاحب)

یاد رہے یہاں لفظ ،،یدعون،، ہے، جس کے معنی پکارنا ہیں جیسا کہ مراد آبادی صاحب نے ان آیات کے تحت فائدہ118 میں لکھا۔ یہاں مراد آبادی صاحب کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب عیسی علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کو پکارتے ہیں۔ اور

[وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا]،[وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰہِ یَدۡعُوۡہُ کَادُوۡا یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِ لِبَدًا]،[قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا]،[قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا]

[اور یہ کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو]،[اور یہ کہ بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا، اسے پکارتا تھا تو وہ قریب تھے کہ اس پر تہ بہ تہ جمع ہو جائیں]،[کہہ دے میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا]،[کہہ دے بلاشبہ میں تمھارے لیے نہ کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا]

[الجن:18 تا 21]

قرآن مجید کی ان آیات کے تحت احمد رضا خان صاحب کی تفسیر میں لکھا ہے: جیسا کہ یہود و نصاری کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے گرجاؤں اور عبادت خانوں میں شرک کرتے تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں غیراللہ کو پکارتے تھے، جیسا کہ آج کل امت مسلمہ کے کچھ لوگ مسجدوں میں غیر اللہ کو پکار رہے ہیں۔

امت مسلمہ کے بھی کچھ لوگ شرک کر رہے ہیں، ہم قرآن و صحیح حدیث اور فقہ کی کتابوں سے ثابت کریں گے کہ امت مسلمہ کے کچھ لوگ بھی اہل کتاب کی طرح یہی کچھ کر رہے ہیں اور رسول عربیﷺ کی مندرجہ بالا حدیث کہ تم بھی پہلی امت کی چال چلو گے، سو فیصد درست ثابت ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ عیسائی عیسی علیہ السلام کو پکارتے ہیں جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ان کو قرآن میں مشرک اور کافر کہا ہے، اب جو کلمہ گو اللہ تعالی کے ساتھ یا رسول اللہ مدد، یا علی مدد، یا غوث الاعظم کہتے ہیں، یہ بھی یقینا قرآن کی رو سے مشرک ہوئے۔

اب ہم کچھ کلمہ گو بھائیوں کے اشکال کا یہاں جواب دیں گے:

① بعض افراد نے ناسمجھی میں یہ لکھ دیا کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے، کہ میری امت کے رگ وریشہ میں توحید اس درجہ سرایت کر چکی ہے کہ مجھے ان کے دوبارہ شرک کی طرف لوٹ جانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ نیز کچھ اور ایسے ہی لوگ (بخاری،کتاب الجنائز: 1344) میں مردی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کا یہ حصہ کہ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمھارے متعلق اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم ایک دوسرے کے مقابلے میں دنیا میں رغبت کرو گے پیش کر کے کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کبھی شرک نہیں کر سکتی اور اس طرح کی اور بھی احادیث بیان کرتے ہیں۔

ازالہ: جب یہ احادیث اور ان احادیث کو جن میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ میری امت شرک کرے گی، سامنے رکھ کر اور قرآن مجید کی ان آیات کو سامنے رکھ کر جن میں اہل کتاب کو مشرک اور کافر کہا گیا ہے، مجموعی جائزہ لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر مشرک نہیں ہوگی بلکہ بعض افراد امت مسلمہ میں سے ایسے ہوں گے جو شرک کے مرتکب ہوں گے اور بعض قبائل بت پوجنا شروع کر دیں گے۔ شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله رقمطراز ہیں: نبیﷺ کے اس فرمان: مجھے تمھارے متعلق شرک کا ڈر نہیں کا مطلب یہ ہے کہ تم مجموعی طور پر شرک نہیں کرو گے، اس لیے کہ امت مسلمہ میں سے بعض افراد کی جانب سے شرک کا وقوع ہوا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ (فتح الباری:211)

اور علامہ بدر الدین عینی حنفی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (عمدة القاری شرح صحیح بخاری:157/8)

اور علامہ ابوالعباس احمد بن محمد القسطلانی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (ارشاد الساري لشرح صحیح البخاری:440/2)

ائمه و محدثین کی تشریح سے معلوم ہوا کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر مشرک نہیں ہو گی، البتہ بعض افراد و قبائل شرک کریں گے جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ اہل قبور سے استغاثہ، فریاد رسی، نذر و نیاز وغیرہ کے شرک میں مبتلا ہیں اور بالکل وہی کام کر رہے ہیں جن کی وجہ سے مشرکین مکہ اور یہود و نصاری کو قرآن میں اللہ تعالی نے مشرک کہا، حالانکہ وہ سب ملت ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ (دیکھیے: ترجمہ مع تفسیر احمد رضا خان صاحب: (انعام:161)،(البقرة:135)،(آل عمران:67)۔ ان احادیث کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرک نہیں کریں گے کیونکہ اس بات کے اولین مخاطب وہی تھے۔