کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

بدعتی حضرات امام بخاریؒ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ:

  • امام بخاری مدلس تھے اور کثرت سے تدلیس کرتے تھے۔

  • ابن حجر نے طبقات المدلسین میں ان کا ذکر کیا ہے۔

  • امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ بخاری نے محمد بن یحییٰ الذہلی سے روایت کی اور اس میں تدلیس کی۔

  • امام مزی، ابن خلکان، شارحین بخاری و ترمذی وغیرہ نے بھی ذکر کیا کہ بخاری نے اپنی صحیح میں محمد بن یحییٰ الذہلی سے کئی جگہ روایت کی اور اس میں تدلیس کی ہے۔

  • تدلیس کی مذمت امام شعبہ، امام شافعی وغیرہ سے منقول ہے کہ "تدلیس جھوٹ کا بھائی ہے” اور "زنا سے بدتر ہے”۔

░ الجواب

1. تدلیس کی حقیقت اور اقسام

حافظ ابن الصلاحؒ نے تدلیس کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:

➊ تدلیس الاسناد:
راوی اپنے شیخ سے روایت کرے لیکن ایسا صیغہ استعمال کرے جس سے براہِ راست سماع ظاہر نہ ہو۔ یہ سخت مذموم ہے۔

➋ تدلیس الشیوخ:
راوی اپنے شیخ سے براہِ راست سنی ہوئی روایت بیان کرے لیکن شیخ کو کسی اور نسبت، لقب یا کنیت سے ذکر کرے جس سے فوراً پہچانا نہ جا سکے۔

ابن الصلاح لکھتے ہیں:

عربی متن:
«تَدْلِيسُ الشُّيُوخِ: أَنْ يَرْوِيَ عَنْ شَيْخٍ حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْهُ، فَيُسَمِّيهِ أَوْ يُكَنِّيهِ أَوْ يُنْسِبَهُ أَوْ يَصِفَهُ بِمَا لَا يُعْرَفُ بِهِ، كَيْ لَا يُعْرَفَ.»
(مقدمۃ ابن الصلاح)

اردو ترجمہ:
تدلیس الشیوخ یہ ہے کہ راوی اپنے شیخ سے براہِ راست سنی ہوئی روایت کرے مگر شیخ کا نام، کنیت یا نسبت کسی اور طرح بیان کرے تاکہ فوراً پہچانا نہ جا سکے۔

ابن الصلاح نے مزید کہا:

عربی متن:
«وأما القسم الثاني فأمره أخفّ … وقد تسامح به جماعة من الرواة المصنّفين، منهم الخطيب البغدادي.»

اردو ترجمہ:
یہ دوسری قسم (تدلیس الشیوخ) نسبتاً ہلکی ہے … اس میں بہت سے محدثین اور مصنفین نے سہولت اختیار کی ہے، جیسے خطیب بغدادی۔

2. امام بخاری پر تدلیس کا الزام

امام بخاری پر یہ الزام صرف اس وجہ سے لگایا گیا کہ انہوں نے اپنے شیخ محمد بن یحییٰ الذہلی کو بعض مقامات پر ان کے دادا یا کسی اور نسبت کے ساتھ ذکر کیا۔

یہ کوئی عیب نہیں۔ سیرتِ نبوی میں بھی یہی اسلوب ملتا ہے:

حدیث:
«أنا النبي لا كذب، أنا ابن عبد المطلب.»
(صحیح بخاری، رقم 2864)

یعنی رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے دادا کی طرف نسبت کی۔
لہٰذا دادا یا نسب کی طرف نسبت کرنا تدلیس نہیں بلکہ وضاحت ہے۔

3. ائمہ کی شہادتیں

➊ حافظ ابن قیم الجوزیہ (751ھ):

ابن حزم کی ایک اشکال کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

عربی متن:
«فالبخاري أبعد خلق الله من التدليس.»
(إغاثة اللهفان 1/391)

اردو ترجمہ:
بخاریؒ اللہ کی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تدلیس سے دور تھے۔

➋ علامہ ابو زرعہ العراقی (826ھ):

ابن مندہ نے کہا کہ بخاری کا "قال فلان” تدلیس ہے۔ ابو زرعہ عراقی کہتے ہیں:

عربی متن:
«وما علمنا لابن منده موافقًا على ذلك، ولم ينسب أحد البخاري إلى شئ من التدليس.»
(المدلسين للعراقي ص 52)

اردو ترجمہ:
ہم نہیں جانتے کہ اس معاملے میں کسی نے ابن مندہ کی موافقت کی ہو، اور نہ ہی کسی نے بخاری کو تدلیس سے منسوب کیا ہے۔

➌ ابن القطان الفاسی (628ھ):

حجاج بن ارطاۃ کی تدلیس پر کلام کرتے ہوئے کہتے ہیں:

عربی متن:
«وأما البخاري رحمه الله فذلك عنه باطل، ولم يصح قطّ عنه، وإنما هي تخيّلات عليه أنه كان يكنّي عن محمد بن يحيى الذهلي.»
(بيان الوهم والإيهام 5/227)

اردو ترجمہ:
اور امام بخاریؒ کی طرف تدلیس منسوب کرنا باطل ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات کبھی صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں کہ وہ محمد بن یحییٰ الذہلی کو کنیت سے بیان کرتے تھے۔

➍ حافظ ابن حجر (852ھ):

  • تعریف اہل التقدیس میں فرماتے ہیں:
    عربی متن:
    «والبخاري ليس مدلسًا.»
    (النكت على ابن الصلاح 2/631)

اردو ترجمہ:
امام بخاری مدلس نہیں ہیں۔

  • فتح الباری میں فرماتے ہیں:
    عربی متن:
    «أحدًا لم يصف البخاري بالتدليس.»
    (فتح الباري 1/389)

اردو ترجمہ:
کسی نے بھی امام بخاری کو تدلیس کے ساتھ متصف نہیں کیا۔

4. امام بخاری نے اپنے شیخ کو کبھی چھپایا نہیں

امام بخاری پر جو الزام لگایا گیا وہ دراصل محمد بن یحییٰ الذہلی کے بارے میں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بخاری نے ان کا نام چھپایا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ بخاری نے کئی جگہ ان کا پورا نسب ذکر کیا ہے۔

مثال:

عربی متن:
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ…»
(صحيح البخاري، رقم 7155)

اردو ترجمہ:
"ہم سے روایت کی محمد بن خالد الذہلی نے، ہم سے روایت کی انصاری محمد بن عبداللہ نے، کہا: مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے، ان سے انسؓ نے…”

یہاں امام بخاری نے اپنے شیخ کو ان کے پورے نسب اور قبیلے کے ساتھ ذکر کیا، جس میں کوئی ابہام نہیں۔

5. دادا یا نسب کی طرف نسبت کرنا عیب نہیں

امام بخاری نے محمد بن یحییٰ الذہلی کو کبھی دادا یا کبھی نسب کی طرف منسوب کیا۔
یہ کوئی "چھپانے” والی بات نہیں بلکہ عام علمی اسلوب ہے۔

خود رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے آپ کو دادا کی طرف منسوب کیا:

عربی متن:
«أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ.»
(صحيح البخاري، رقم 2864)

اردو ترجمہ:
"میں نبی ہوں، یہ کوئی جھوٹ نہیں؛ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔”

لہٰذا دادا یا نسب کے ساتھ پہچان کرانا عیب نہیں، بلکہ اور زیادہ وضاحت ہے۔

6. ائمہ کا اجماعی موقف

  • ابن قیم: "امام بخاری اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ تدلیس سے دور تھے”۔

  • ابن القطان: "ان پر تدلیس الشیوخ کا الزام باطل ہے”۔

  • ابو زرعہ عراقی: "کسی نے بھی بخاری کو مدلس نہیں کہا”۔

  • ابن حجر: "بخاری مدلس نہیں ہیں” اور "کسی نے ان کو مدلس نہیں کہا”۔

✅ خلاصۂ کلام

  1. امام بخاریؒ مدلس نہیں تھے۔

  2. جو الزام لگایا گیا وہ صرف دادا یا نسب کی نسبت کی بنیاد پر ہے، جو کوئی عیب نہیں۔

  3. خود امام بخاری نے اپنے شیخ محمد بن یحییٰ الذہلی کو جگہ جگہ پورے نام و نسب کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

  4. ائمہ حدیث کا اجماع ہے کہ امام بخاری پر تدلیس کا الزام باطل ہے۔

اہم حوالوں کے سکین

کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 001 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 002 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 003 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 004 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 005 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 006 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 007 کیا امام بخاری مدلس تھے؟ ائمہ کی گواہیاں – 008