مضمون کے اہم نکات
ایک حنفی متعصب لکھتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ فقہ میں شافعی المسلک تھے اور اس پر تاج الدین سبکی، نواب صدیق حسن، قسطلانی، ابن تیمیہ، ابن القیم، شاہ ولی اللہ دہلوی وغیرہ کے اقوال کا سہارا لیتا ہے تاکہ امام بخاری کو مجتہد مطلق کے بجائے ایک "شافعی مقلد” بنا کر پیش کرے۔
الجواب:
یہ الزام دراصل امام بخاری کی شانِ اجتہاد اور ان کے عظیم فقہی مقام کو گھٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
-
اولاً: امام بخاری کی تصانیف، بالخصوص الجامع الصحیح میں ابوابِ فقہیہ کی ترتیب اور ایک ایک حدیث سے کئی کئی مسائل کے استنباط، خود ان کے "مجتہد مطلق” ہونے کی قطعی دلیل ہے۔
-
ثانیاً: جن اقوال سے ان کے "شافعی ہونے” کا الزام لگایا جاتا ہے، وہ یا تو تعصبِ مقلدین کی پیداوار ہیں یا پھر ان کے اصل مفہوم کو سیاق سے کاٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
-
ثالثاً: خود اکابر علماء (جن میں اہلِ حدیث، شوافع اور بعض احناف بھی شامل ہیں) نے امام بخاری کے مجتہد مطلق ہونے کی صراحت کی ہے۔
❖ سبکی اور ابو عاصم العبادی کا استدلال
حنفی نے سب سے پہلے تاج الدین سبکی (م 771ھ) اور ابو عاصم العبادی الشافعی (م 468ھ) کا حوالہ دیا:
امام بخاری نے زعفرانی، ابو ثور اور کرابیسی سے فقہ حاصل کی اور یہ سب امام شافعی کے شاگرد تھے لہٰذا بخاری شافعی المسلک تھے۔
(طبقات الشافعیہ الکبریٰ 2/214)
الجواب:
① ابو عاصم العبادی کا بیان یہ ہے کہ امام بخاری نے ان حضرات سے سماع کیا تھا جو امام شافعی کے تلامذہ تھے۔ مگر اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ بخاری خود شافعی مقلد تھے۔
② سبکی نے اپنی طبقات میں امام بخاری کے ساتھ دیگر مجتہدین کو بھی ذکر کیا ہے جیسے:
-
امام احمد بن حنبل
-
امام داود ظاہری
-
امام محمد بن جریر طبری
یہ سب اپنے مستقل مذہب کے ائمہ ہیں۔ تو پھر امام بخاری کو شافعی مقلد ماننا کیوں؟
③ خود سبکی نے بھی لکھا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں براہ راست امام شافعی سے کوئی روایت بیان نہیں کی، بلکہ ان کے تلامذہ کے واسطے سے مسائل نقل کئے۔
④ لہٰذا "شافعی المسلک” کہنا صرف ایک اصطلاحی نسبت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بعض مسائل امام شافعی کے مسائل سے مشابہ ہیں۔ یہ تقلید نہیں بلکہ اجتہادی موافقت ہے۔
❖ نواب صدیق حسن اور قسطلانی سے منسوب دلائل کا رد
1️⃣ نواب صدیق حسن کا حوالہ
تعصبی حنفی نے لکھا:
نواب صدیق حسن بھوپالی نے ابجد العلوم میں امام بخاری کو شوافع میں ذکر کیا ہے۔
الجواب:
اصل حقیقت یہ ہے کہ نواب صدیق حسن (م 1307ھ) نے حنفی مؤلف محمد بن قطب الدین الازنیقی الرومی (م 885ھ) کی کتاب مدینۃ العلوم سے یہ قول نقل کیا اور پھر اس کی رد بھی کی۔
ان کی وضاحت یہ ہے:
"طبقات کے مصنفین نے تعصب کے تحت اپنی فہرستوں میں ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا جو ان کے مقلد ہی نہ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ائمہ (بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ) مقلد نہیں تھے بلکہ مجتہدین تھے جو غور و فکر کے بعد سب سے زیادہ صحیح اقوال کو اختیار کرتے تھے۔”
(ابجد العلوم 3/126)
✦ لہٰذا نواب صدیق حسن نے "امام بخاری شافعی تھے” نہیں کہا، بلکہ برعکس ان کو مقلد ماننے کی تردید کی ہے۔
2️⃣ قسطلانی کا حوالہ
حنفی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ:
امام قسطلانی (م 923ھ) نے ارشاد الساری میں لکھا ہے کہ امام بخاری شافعی تھے۔
الجواب:
یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ارشاد الساری شرح بخاری میں ایسا کوئی جملہ موجود نہیں کہ امام بخاری کو "شافعی مقلد” کہا گیا ہو۔
✦ قسطلانی نے صرف یہ ذکر کیا ہے کہ بخاری کے بعض مسائل شافعیہ سے موافق ہیں، جیسے ان کے تراجم الابواب میں ظاہر ہوتا ہے۔ مگر انہوں نے بخاری کو "شافعی مقلد” کہیں نہیں کہا۔
❖ ابن تیمیہ، ابن قیم اور شاہ ولی اللہ کے دلائل کا رد
1️⃣ ابن تیمیہ کا حوالہ
حنفی تعصبی نے کہا:
"ابن تیمیہ کے نزدیک امام بخاری و مسلم وغیرہ محدثین شافعی یا حنبلی کے مقلد تھے”
(مجموع فتاویٰ 25/232)
الجواب:
اصل عبارت ابن تیمیہ کی یہ ہے:
"امام بخاری اور ابو داود دونوں فقہ میں امام اور اہلِ اجتہاد میں سے تھے، اور کسی ایک عالم کے مقلد نہیں تھے۔ جبکہ مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ وغیرہ اہلِ حدیث کے مذہب پر تھے، نہ کسی ایک عالم کے مقلد، نہ ہی مطلق مجتہد۔”
(مجموع الفتاویٰ 25/232)
✦ واضح ہوگیا کہ امام ابن تیمیہ نے امام بخاری کو مجتہد مطلق قرار دیا ہے، مقلد نہیں۔
2️⃣ ابن قیم الجوزیہ کا حوالہ
حنفی نے کہا:
"امام بخاری حنبلی تھے، ابن قیم نے لکھا ہے” (اعلام الموقعین 3/543)
الجواب:
امام بخاری (م 256ھ) اور امام احمد بن حنبل (م 241ھ) دونوں ہم عصر تھے۔ ابن قیم (م 751ھ) نے ایک مقام پر سہواً لفظ ایسا ذکر کیا، لیکن ان کی اپنی ہی دوسری تصریحات اس کے خلاف ہیں۔
-
ابن قیم نے اعلام الموقعین میں مقلد کو "جاہل” کہا ہے۔
-
اگر وہ امام بخاری کو مقلد حنبلی سمجھتے تو ہرگز یہ الفاظ نہ لکھتے۔
✦ لہٰذا یہ نسبت محض کاتب یا فہم کی غلطی ہے، جسے تعصبی حنفی اپنی دلیل بناتا ہے۔
3️⃣ شاہ ولی اللہ دہلوی کا حوالہ
حنفی نے کہا:
"شاہ ولی اللہ دہلوی نے امام بخاری کو شافعی کہا ہے” (الانصاف ص50)
الجواب:
شاہ ولی اللہ دہلوی (م 1176ھ) کی اصل عبارت یہ ہے:
"اہلِ حدیث بعض اوقات کثرتِ موافقت کی وجہ سے کسی مذہب کی طرف منسوب ہو جاتے ہیں، جیسے امام نسائی اور بیہقی کو شافعی کہا جاتا ہے۔”
(حجة الله البالغة 1/152)
اور آگے لکھتے ہیں:
"امام بخاری کا طریقہ اجتہاد امام شافعی سے قریب تھا، اس لئے بعض مسائل میں ان کی موافقت کی، اور بعض میں اختلاف بھی کیا۔”
(الانصاف)
✦ پس شاہ صاحب نے صاف وضاحت کردی کہ "یہ نسبت محض موافقت کی وجہ سے ہے، تقلید کی وجہ سے نہیں”۔
❖ امام طحاوی اور دیگر محدثین کی شہادت
1️⃣ امام طحاوی کا واقعہ
امام ابو جعفر الطحاوی (م 321ھ) خود حنفی گھرانے سے تھے، لیکن فرماتے ہیں:
"ابو عبید بن جرثومہ مجھ سے مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ میں نے ایک دن ان کے سوال کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا: یہ ابو حنیفہ کا قول ہے۔ میں نے کہا: کیا جو کچھ ابو حنیفہ نے کہا میں بھی وہی کہوں؟ انہوں نے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ تم مقلد ہو۔ میں نے کہا: تقلید تو نافرمان اور کم عقل کرتا ہے۔”
(لسان الميزان 4/167، شرح عقود رسم المفتي)
✦ اس سے واضح ہے کہ بڑے فقہاء اور محدثین خود مقلد نہیں تھے بلکہ اجتہاد کرتے تھے۔ اسی طرح امام بخاری بھی۔
2️⃣ امام ابن تیمیہ کی صریح تصریح
"امام بخاری اور ابو داود دونوں فقہ میں امام اور اہلِ اجتہاد سے تھے۔”
(مجموع الفتاویٰ 25/232)
3️⃣ حافظ ذہبی
"محمد بن اسماعیل البخاری امام، حافظ، حجت، فقہ و حدیث کے سردار، مجتہد اور زہد و تقویٰ میں یگانہ روزگار تھے۔”
(الكاشف 3/33)
4️⃣ علامہ طاہر الجزائری
"بخاری اور ابو داود دونوں فقہ میں امام اور اہل اجتہاد تھے۔”
(توجيه النظر 2/804)
5️⃣ ملا علی قاری حنفی
"امام بخاری اجتہاد اور استنباط میں بڑی قوت رکھتے تھے اور زبردست مجتہد تھے۔”
(مرقاة المفاتيح)
6️⃣ ابراہیم السندی حنفی
"امام بخاری مجتہد مطلق تھے جیسا کہ امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک اور احمد تھے۔”
(ما تمس إليه الحاجة)
7️⃣ علامہ اسماعیل العجلونی (شیخِ علامہ شامی)
"امام بخاری کے مجتہد مطلق ہونے کی تصریح ابن تیمیہ اور سخاوی نے بھی کی ہے۔”
(الفوائد الدراري في ترجمة الإمام البخاري)
❖ دیوبندی و معاصر علماء کی شہادت
1️⃣ مولانا رشید احمد گنگوہی دیوبندی
"امام بخاری میرے نزدیک مجتہد مستقل ہیں۔ ان کا فقیہ اور مجتہد ہونا، دقت نظری کے ساتھ ان کے تراجم ابواب کے ملاحظہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے۔”
(لامع الدراري شرح صحيح البخاري)
2️⃣ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان دیوبندی
"امام بخاری مجتہد مطلق تھے، کسی کے مقلد نہیں تھے، اور میں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔”
(کشف الباری)
3️⃣ مفتی رفیع عثمانی دیوبندی
"امام بخاری بلاشک و شبہ مجتہد مطلق ہیں اور ان کی کتاب اس پر شاہد عدل ہے۔ عام طور پر جو بخاری کا شافعی ہونا مشہور ہے اس کی وجہ مسائلِ مشہورہ میں ان کا مذہب شافعی کے موافق ہونا ہے، مگر یہ موافقت ان کے شافعی ہونے کی دلیل نہیں۔”
(درس مسلم)
4️⃣ زکریا کاندھلوی دیوبندی
"امام بخاری پختہ طور پر مجتہد تھے۔ اگرچہ فقہائے شافعیہ نے ان کو طبقاتِ شافعیہ میں ذکر کیا ہے، حالانکہ بخاری احناف سے جتنے ناراض ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے کچھ زیادہ شافعیہ کے خلاف ہیں۔”
(تقریر بخاری شریف)
5️⃣ عبدالحئی لکھنوی حنفی
"امام بخاری، امام ابو ثور، امام داود ظاہری— یہ سب ائمہ اربعہ کے بعد مجتہد مطلق ہوئے ہیں۔ یہ کہنا کہ اجتہاد ائمہ اربعہ پر ختم ہوگیا باطل اور مردود ہے۔”
(الجامع الصغير وشرحه النافع الكبير)
6️⃣ عبد الحق دہلوی
"امام بخاری ذہن کی تیزی، فقہ میں وسعت، زہد و تقویٰ، اور قوتِ اجتہاد میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔”
(اشعة اللمعات)
📌 نتیجہ
-
امام بخاری کو شافعی مقلد کہنا بدترین گستاخی اور علمی خیانت ہے۔
-
امام بخاری دراصل مجتہد مطلق تھے، جیسے امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک اور احمد۔
-
ان کے تراجم الابواب اور استنباطات ان کے اعلیٰ درجے کے اجتہاد پر سب سے بڑی دلیل ہیں۔
اہم حوالاجات کے سکین


























