کیا امام بخاری شافعی المذہب تھے؟ مستند تاریخ و علماء کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ شافعی المذہب تھے، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب :

امام بخاری رحمہ اللہ مجتہد و فقیہ اور محدث تھے۔ ان کی فقاہت کی شہادت و گواہی ان کے اساتذہ کرام نے دی ہے۔ وہ شخص فقاہت کے کسی درجہ علیا پر فائز ہوگا جسے اس کے مشائخ و اساتذہ فقیہ قرار دیتے ہوں۔ امام ابو مصعب احمد بن ابی بکر الزہری انھیں ”أفقه عندنا“ (ہمارے نزدیک سب سے بڑا فقیہ) قرار دیتے تھے، بلکہ حدیث و فقہ میں امام مالک کے ہم پلہ گردانتے تھے۔
(تاریخ بغداد 2/19، تاریخ دمشق 50/15، سير أعلام النبلاء 420/12)
امام یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے انھیں ”فقيه هذه الأمة“ (اس امت کا فقیہ) قرار دیا تھا۔
(تاریخ بغداد 2/22، سير أعلام النبلاء 420/12)
امام محمد بن بشار بندار نے انھیں ”أفقه خلق الله فى زماننا“ (اپنے دور کے سب سے بڑے فقیہ) کہتے تھے۔
(سير أعلام النبلاء 429/12)
امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق محدثین کے کلام کے لیے ملاحظہ فرمائیں ”سیرة الإمام البخاري“ از شیخ عبد السلام مبارکپوری۔ علاوہ ازیں علامہ انور شاہ کشمیری نے (مقدمہ فیض الباری 58/1)، شیخ ابراہیم بن عبد اللطیف السندی (الإمع الداری از مولانا محمد زکریا ص 18)، سلیمان بن ابراہیم علوی اور علامہ علی شفی (آفتاب بخارا ص 127) وغیرہ نے بھی امام بخاری کو مجتہد تسلیم کیا ہے۔
امام بخاری کی ”الجامع الصحيح“ پڑھنے والے علماء اور طلباء پر یہ بات مخفی نہیں کہ انھوں نے صحیح بخاری میں کس شاندار طریقے سے اجتہاد و استنباط سے کام لیا ہے۔ ان کی فقاہت ان کے ابواب سے واضح ہوتی ہے جو انھوں نے صحیح بخاری میں قائم کیے ہیں۔ جس شخص نے صحیح طریقے سے نہ بخاری پڑھی ہو اور نہ پڑھائی ہو، اسے امام بخاری سے متعلق کیا علم ہو سکتا ہے؟ وہ تو اندھیرے میں بیٹھ کر راس المحدثین اور سید الفقہاء پر پتھر برسا رہا ہے اور رجما بالغیب کا مصداق ٹھہرا ہوا ہے۔ اگر امام بخاری امام شافعی کے مقلد ہوتے تو ان کی مخالفت نہ کرتے، کیونکہ مقلد کا مذہب تو اس کے امام کا قول ہوتا ہے، جبکہ صحیح بخاری میں امام بخاری نے کئی مقامات پر امام شافعی کی مخالفت کی ہے۔ نیز امام بخاری نے صحیح البخاری ”كتاب العلم، باب كيف يقبض العلم؟“ میں خلیفہ المسلمین عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ذی شان نقل کیا ہے:
لا يقبل إلا حديث النبى صلى الله عليه وسلم
یعنی صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی قبول کی جائے گی (کسی اور کا قول نہیں)۔
جبکہ مقلد تو صرف قول امام کا پابند ہوتا ہے۔ لہذا امام بخاری کسی کے مقلد نہیں تھے۔ وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے والے، ماننے والے تھے اور کتاب و سنت سے استنباط کر کے خود مسائل حل کرنے والے تھے۔ وہ اپنے دور کے بہت بڑے فقیہ، مجتہد اور محدث و مفسر تھے۔