مضمون کے اہم نکات
سوال
امام ابن حبان رجال پر حکم لگانے میں متشدد تھے یا متساہل؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امام ابن حبان رحمہ اللہ علیہ کی شخصیت رجال پر حکم لگانے کے حوالے سے ایک خاص انداز رکھتی ہے۔ وہ جس طرح توثیق و تعدیل کے معاملے میں کافی متساہل (نرمی برتنے والے) سمجھے جاتے ہیں، اسی طرح جرح (تنقید) کے سلسلے میں بھی کئی مواقع پر انہوں نے انتہائی شدت سے کام لیا ہے۔
مدلس راویوں کی درجہ بندی
جمہور محدثین نے مدلس راویوں کو مختلف مراتب (درجات) میں تقسیم کیا ہے۔ اس تقسیم کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کی مشہور کتاب "طبقات المدلسین” کا مطالعہ ضروری ہے۔
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی تدلیس
امام بخاری رحمہ اللہ، جو حدیث کے ایک عظیم محقق اور مجتہد ہیں، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
((ما اقل تدليسه))
یعنی: ان کی تدلیس بہت کم ہے۔
اسی طرح امام ابن معین رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ نے بھی سفیان ثوری کی مدلس یا معنعنہ (عن سے روایت کردہ) روایات کو قبول کیا ہے، جیسا کہ شرح ابن رجب العلل الترمذی وغیرہ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے۔
اسی بنیاد پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "طبقات المدلسین” میں امام سفیان ثوری کو دوسرے درجے میں شامل کیا ہے۔ اس درجے کی "معنعن” روایتوں کو دوسرے محدثین نے بغیر تصریحِ سماع کے بھی قبول کیا ہے۔
لہٰذا جب جمہور محدثین اور بڑے ائمہ حدیث کی رائے اس پر متفق ہے، تو پھر امام ابن حبان کی رائے کو ان کے مقابلے میں کوئی اہمیت حاصل نہیں۔
صحیح ابن حبان کی داخلی شہادت
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ راویوں پر رائے دینے والے ابن حبان رحمہ اللہ کی اپنی کتاب "صحیح ابن حبان” مکمل طور پر میرے پاس موجود ہے اور میں نے اس کا مکمل مطالعہ کیا ہے۔
اس مطالعے کے دوران میں نے یہ بات نوٹ کی کہ:
- کئی مواقع پر مدلس راویوں کی روایات جو تیسرے درجے کے تھے، کو استدلال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
- ان روایات کو ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے، حالانکہ ان میں سماع کی تصریح (براہ راست سننے کا ذکر) موجود نہیں ہے۔
اگر خود امام ابن حبان ان روایات کو سماع کی تصریح کے بغیر صحیح قرار دے رہے ہیں، تو پھر ان کی یہ رائے کہ مدلس راوی کی معنعن روایت بغیر سماع کے قبول نہیں، دوسروں پر کیسے حجت یا دلیل بن سکتی ہے؟
خاص طور پر جب جمہور محدثین اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں۔
خلاصۂ کلام
- امام سفیان ثوری اور دیگر ایسے راوی جو تدلیس کے پہلے یا دوسرے درجے میں شامل ہیں، ان کی روایات بغیر تصریحِ سماع کے بھی قابل قبول ہوتی ہیں۔
- صرف اس صورت میں ان کی روایت پر اعتراض ممکن ہے جب وہ:
- کسی زیادہ صحیح یا اصح روایت کے خلاف ہو،
- اور جمع یا توفیق (مطابقت) ممکن نہ ہو۔
ھذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب