سوال
کیا امامت اور نکاح پڑھانے کی اجرت لینا حدیث سے ثابت ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امامت اور نکاح پڑھانے کی اجرت کے جواز پر صحیح بخاری کی ایک واضح حدیث دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
«إِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اﷲِ»
(صحيح بخارى، كتاب الطب، باب الشرط فى الرقية، ص854، ج2)
ترجمہ:
’’سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کا حق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘
یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ قرآنِ کریم کی تعلیم، تلاوت یا اس سے متعلقہ خدمات پر اجرت لینا جائز ہے۔ چونکہ امامت اور نکاح پڑھانا بھی دینِ اسلام کی خدمات میں شامل ہیں، اور ان میں قرآن کی تلاوت و تعلیم کا پہلو پایا جاتا ہے، اس لیے ان خدمات پر اجرت لینا جائز ہے اور اس کی بنیاد اسی حدیث سے ملتی ہے۔
نتیجہ
لہٰذا، امامت کروانے یا نکاح پڑھانے کے عوض اجرت لینا حدیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب