کیا امامت اور نکاح پر اجرت لینا حدیث سے ثابت ہے؟

ماخوذ: احکام و مسائل، موضوع: خرید و فروخت کے مسائل، جلد 1، صفحہ 391

سوال

کیا امامت اور نکاح پڑھانے کی اجرت لینا حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امامت اور نکاح پڑھانے کی اجرت کے جواز پر صحیح بخاری کی ایک واضح حدیث دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«إِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اﷲِ»
(صحيح بخارى، كتاب الطب، باب الشرط فى الرقية، ص854، ج2)

ترجمہ:
’’سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کا حق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘

یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ قرآنِ کریم کی تعلیم، تلاوت یا اس سے متعلقہ خدمات پر اجرت لینا جائز ہے۔ چونکہ امامت اور نکاح پڑھانا بھی دینِ اسلام کی خدمات میں شامل ہیں، اور ان میں قرآن کی تلاوت و تعلیم کا پہلو پایا جاتا ہے، اس لیے ان خدمات پر اجرت لینا جائز ہے اور اس کی بنیاد اسی حدیث سے ملتی ہے۔

نتیجہ

لہٰذا، امامت کروانے یا نکاح پڑھانے کے عوض اجرت لینا حدیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾