مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا اللہ تعالیٰ کے لیے مکر، خدع اور استہزاء کے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا اللہ تعالیٰ کے لیے مکر، خدع اور استہزاء کے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں؟

جواب:

اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کو اپنے لیے ثابت کیا ہے، جیسا کہ باری تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
إن المكر والخداع والسخرية على وجه اللعب والعبث منتف عن الله عز وجل، بالإجماع، وأما على وجه الانتقام والمقابلة بالعدل والمجازاة فلا يمتنع ذلك.
مکر، خداع (دھوکہ) اور استہزاء (طنزیہ مذاق) کھیل اور بے مقصد کام کے لیے ہو، تو بالا اجماع اللہ عزوجل سے ان کی نفی کی جائے گی، البتہ اگر انتقام، عدل کے ساتھ مقابلہ اور بدلہ کے طور پر ہو، تو یہ اللہ تعالیٰ کے حق میں ممتنع نہیں ہیں۔
(تفسير ابن كثير: 184/1)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔