مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا اللہ تعالیٰ کے لیے صفت رجل (پاؤں) ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا اللہ تعالیٰ کے لیے صفت رجل (پاؤں) ثابت ہے؟

جواب:

اللہ تعالیٰ کے لیے پاؤں ثابت ہے، اس کی کوئی صفت مخلوق کے مشابہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا پاؤں اسی طرح کا ہے، جس طرح اس کی شایانِ شان ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أما النار فلا تمتلئ حتى يضع رجله فتقول: قط قط، فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض، ولا يظلم الله عز وجل من خلقه أحدا
جہنم بھرے گی نہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا، پھر وہ کہے گی: بس، بس! اب وہ بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ دوسرے کی طرف سکڑے گا، اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق سے ظلم نہیں کرے گا۔
(صحیح البخاری: 4850، صحیح مسلم: 2846)
یہی روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
(صحیح البخاری: 4848)
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ
(البقرہ: 255)
اللہ تعالیٰ کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کا احاطہ کیا ہوا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کرسی سے مراد موضع القدمین (پاؤں رکھنے کی جگہ) ہے۔
(العظمة لأبی الشیخ: 2/552، وسندہ حسن)
کئی اسلاف نے یہی تفسیر کی ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔