مضمون کے اہم نکات
سوال:
آج کل مختلف رسائل حتیٰ کہ اہلحدیث جماعت کے رسائل و کتب میں بھی یہ جملہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے۔ حالانکہ معروف اور صحیح مسلک اور سلف صالحین کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے عرش عظیم پر مستوی ہے اور ہر جگہ اس کی قدرت قاہرہ کام کر رہی ہے۔ اسی طرح وہ اپنے علم کی صفت کی بنیاد پر ہر جگہ موجود ہے، یعنی وہ بذات خود ہر جگہ نہیں بلکہ اس کا علم ہر جگہ محیط ہے۔ یہ بات قرآن حکیم میں مذکور بہت سی آیات سے ثابت ہے، جیسا کہ:
"ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ”
"الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ”
وغیرہ۔
تو ایسی صورت میں "اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے” جیسے الفاظ کہنا جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بذات خود ہر جگہ موجود ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
بینوا توجروا۔
جواب:
الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد:
اس مسئلے کے فہم کے لیے درج ذیل اصول ذہن نشین ہونا ضروری ہے:
زبان کی تعبیر اور مرادف الفاظ کا استعمال
◈ کسی زبان کے کسی لفظ یا جملے کو دوسری زبان میں عام فہم انداز میں ترجمہ کرنا یا اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اس زبان کے مروجہ الفاظ کا استعمال کرنا کوئی معیوب یا قابلِ اعتراض بات نہیں۔
◈ کیونکہ عوام الناس اپنی زبان کے الفاظ اور تعبیرات کو زیادہ جلدی اور بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔
مروجہ الفاظ اور ان پر اعتراض نہ ہونا
◈ صرف "حاضر و ناظر” ہی نہیں بلکہ کئی دیگر الفاظ جیسے:
"خدا”، "دھنی”، "پاک” وغیرہ ہماری زبانوں میں عام رائج ہیں۔
◈ حالانکہ ان الفاظ کا قرآن و حدیث میں صراحت کے ساتھ استعمال نہیں ہوا، مگر ان پر نہ کوئی اعتراض ہوا اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرنا ناپسندیدہ سمجھا گیا۔
مروجہ الفاظ کی معنوی مطابقت
◈ ان الفاظ میں موجود معانی اللہ تعالیٰ کی ان صفات کے ہم معنی ہیں جن کا ذکر خود قرآن و سنت میں آیا ہے:
◈ "خدا” = "القیوم”
◈ "دھنی” = "مالک” یا "مولیٰ”
◈ "پاک” = "قدوس”
◈ اسی بنیاد پر الفاظ جیسے:
◈ "خدا بخش” = "القیوم کا بخشا ہوا”
◈ "دھنی بخش” یا "مولیٰ بخش”
◈ "اللہ پاک” = "اللہ قدوس”
یہ سب الفاظ اللہ کی صفات کے ہم معنی ہونے کے باعث قابلِ قبول ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی معیت اور علم کا احاطہ
اللہ تعالیٰ اگرچہ اپنے عرش پر مستوی ہے، تاہم وہ اپنے علم و قدرت کے اعتبار سے ہمارے ساتھ ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾
(الحدید:۴)
"اللہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو، اور اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔”
◈ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے۔
◈ "ناظر” کا مفہوم بھی یہی ہے: یعنی دیکھنے والا۔
◈ اسی طرح "وَهُوَ مَعَكُمْ” کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ بذات خود ہر جگہ موجود ہے، بلکہ اس سے مراد علم و قدرت کے ساتھ معیت ہے۔
"حاضر” کا مطلب بھی "معیت علمی”
◈ اگر "مَعَكُمْ” (ساتھ ہونا) سے بذاتی موجودگی لازم نہیں آتی، تو "حاضر” سے بھی یہ مطلب لینا درست نہیں کہ وہ بذات خود ہر جگہ موجود ہے۔
◈ "حاضر” بھی اللہ تعالیٰ کی معیت علمی کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔
◈ "معیت” کا مفہوم قرآن و حدیث میں بار بار وارد ہوا ہے۔
"حاضر و ناظر” کے مفہوم کی درست وضاحت
◈ "حاضر” کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کی بنیاد پر ہر جگہ موجود ہے، نہ کہ جسمانی یا ذاتی طور پر۔
◈ یہ بھی ہمارے عرف اور زبان کا ایک عام و مروجہ لفظ ہے، جس کے ذریعے اللہ کی صفت علم کی وضاحت کی جاتی ہے۔
"حاضر و ناظر” کو ناجائز قرار دینے سے پیدا ہونے والی خرابیاں
اگر یہ اصول قائم کر لیا جائے کہ صرف وہی الفاظ استعمال کیے جائیں جو قرآن و حدیث میں آئے ہوں، تو دو بڑی خرابیاں سامنے آئیں گی:
➊ زبان کا دائرہ بہت محدود ہو جائے گا
◈ تمام وہ الفاظ جو صدیوں سے علماء اور عوام کے مابین معروف ہیں، جیسے:
◈ خدا بخش
◈ دھنی بخش
◈ اللہ پاک
◈ پروردگار
یہ سب ناجائز قرار دیے جائیں گے۔
◈ اس سے زبان کا دائرہ اتنا محدود ہو جائے گا کہ ہر جگہ سخت دشواری پیدا ہو جائے گی۔
➋ صفات الٰہی کی تفہیم ناممکن ہو جائے گی
◈ اگر ہر لفظ کا مفہوم واضح نہ کیا جائے تو:
◈ مثلاً ہم کہیں "اللہ غفور ہے”، "کریم ہے”، "سمیع و بصیر ہے”،
◈ تو جب کوئی پوچھے کہ "غفور” یا "کریم” کا مطلب کیا ہے؟
◈ ہم صرف یہ کہہ سکیں گے: "بس وہ غفور ہے، کریم ہے” وغیرہ، اور آگے وضاحت نہ ہو سکے گی۔
◈ اس طرزِ عمل سے عوام الناس کی رہنمائی ممکن نہیں رہتی اور بڑی بدمزگی اور الجھن پیدا ہوتی ہے۔
✅ خلاصہ کلام:
◈ "اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے” کہنا ناجائز نہیں ہے۔
◈ کیونکہ یہ آیت کریمہ:
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾
(الحدید:۴)
◈ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے۔
◈ جس طرح اس آیت سے معیت علمی مراد لی جاتی ہے، اسی طرح "حاضر” کا مفہوم بھی اللہ تعالیٰ کا علم کے لحاظ سے ہمارے ساتھ ہونا ہے، نہ کہ بذاتی موجودگی۔
◈ لہٰذا "حاضر و ناظر” جیسے عام اور مروجہ الفاظ سے اگر صحیح عقیدہ مراد لیا جائے تو ان کا استعمال بالکل جائز ہے۔
ھٰذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب