مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا ثابت ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا ثابت ہے؟

جواب:

اہل سنت والجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، یہ عقیدہ قرآنی نصوص، احادیث متواترہ، اجماع امت اور فطرت سے ثابت ہے، سلف میں کوئی مسلمان اس عقیدہ کا مخالف نہیں۔
❀ امام محمد بن عثمان بن ابی شیبہ رحمہ اللہ (297ھ) فرماتے ہیں:
إجماع السلف من الصحابة والتابعين ومن سار على نهجهم منعقد على إثبات علو الله، واستوائه على عرشه، وقد نقل غير واحد من السلف هذا الإجماع عنهم
صحابہ، تابعین اور ان کے متبعین کا اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علو اور اپنے عرش پر مستوی ہونا ثابت ہے، سلف میں سے کئی ایک نے صحابہ و تابعین سے یہ اجماع نقل کیا ہے۔
(كتاب العرش وما رُوِيَ فيه، ص 150)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔