کیا اقامت غیر مؤذن کہہ سکتا ہے؟ فقہی دلائل اور آراء

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، ج1، ص319

سوال

کیا غیر مؤذن اقامت کہہ سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عبد اللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ (یہ وہ صحابی ہیں جنہیں خواب میں اذان کے کلمات سکھائے گئے تھے) کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مؤذن بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔

افضل طریقہ

◄ اگرچہ غیر مؤذن اقامت کہہ سکتا ہے، لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ اقامت مؤذن ہی کہے۔
◄ اس کی دلیل یہ ہے کہ زیاد بن حارث الصدائی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر اذان دی۔
◄ جب رسول اللہ ﷺ وضو فرما کر نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اقامت بھی زیاد بن حارث ہی پڑھیں گے۔

روایات کا درجہ

◄ یہ دونوں احادیث اگرچہ ضعیف ہیں، تاہم علماء کی اکثریت نے زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ والی روایت کو راجح قرار دیا ہے۔
◄ اس کی وجہ یہ ہے کہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا واقعہ پہلے پیش آیا جبکہ زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ والی روایت بعد کی ہے۔

علماء کی آراء

◄ حافظ حازمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الناسخ والمنسوخ میں لکھا ہے:
اقامت کے بارے میں مؤذن اور غیر مؤذن دونوں برابر ہیں اور اس مسئلے میں گنجائش موجود ہے۔
◄ امام مالک، امام ابو ثور، اہل حجاز اور اہل کوفہ کی اکثریت کا بھی یہی موقف ہے۔
◄ لیکن ہادویہ اور امام شوکانی رحمہما اللہ کے نزدیک اقامت صرف مؤذن کو ہی پڑھنی چاہیے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب