کیا اعمال، ایمان کا جزو ہیں؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا اعمال، ایمان کا جزو ہیں؟

جواب:

اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ اعمال ایمان کا جزو ہیں۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أما إطلاق اسم الإيمان على الأعمال فمتفق عليه عند أهل الحق ودلائله فى الكتاب والسنة أكثر من أن تحصر وأشهر من أن تشهر.
اعمال پر ایمان کا اطلاق اہل حق کے ہاں بالاتفاق جائز ہے، اس پر دلائل کتاب و سنت میں اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا، نیز اتنے مشہور ہیں کہ انہیں مشہور کرنے کی حاجت نہیں۔
(شرح النووي: 149/1، شرح الأربعين لابن دقيق العيد: 33، التوضيح لابن ملقن: 450/2)
فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ
(البقرة: 143)
اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں۔
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
لم يختلف المفسرون أنه أراد صلاتكم إلى بيت المقدس فسمى الصلاة إيمانا.
مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہاں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نماز مراد ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان کہا ہے۔
(التمهيد: 253/9)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن المراد صلاتكم.
اہل علم کا اجماع ہے کہ (یہاں ایمان سے) مراد نماز ہے۔
(شرح النووي: 149/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️