مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

کیا اشراق کی نماز سونے کے بعد ادا کی جا سکتی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 215

سوال

ایک شخص فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک بیٹھا رہتا ہے اور ذکر و اذکار کرتا ہے۔ سورج طلوع ہونے کے بعد وہ سو جاتا ہے اور تقریباً صبح نو بجے جاگ کر نماز اشراق ادا کرتا ہے۔ کیا اس طرح ادا کی گئی نماز اشراق درست ہو جاتی ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی صورت میں نماز اشراق ادا ہو جاتی ہے، یعنی نو بجے ادا کی گئی اشراق کی نماز صحیح ہے۔

تاہم، زیادہ بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے اشراق کی نماز ادا کر لے۔

"ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب”

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔