مضمون کے اہم نکات
سوال
کہا جاتا ہے کہ جس کنکری کو کسی نے پہلے استعمال کیا ہو، اس کے ساتھ رمی کرنا جائز نہیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات درست نہیں ہے کہ استعمال شدہ کنکری کے ذریعے رمی کرنا ناجائز ہو۔ جن لوگوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ پہلے کسی کے ذریعے پھینکی گئی کنکری سے رمی کرنا جائز نہیں، انہوں نے اس کی تین بنیادی وجوہات بیان کی ہیں:
تین بیان کردہ اسباب:
➊ مستعمل پانی پر قیاس:
◈ ان کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کنکری کی حیثیت اس پانی کی سی ہے جو طہارت واجبہ (یعنی فرض غسل یا وضو) کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔
◈ ایسی صورت میں وہ پانی طاہر (یعنی پاک) تو رہتا ہے، لیکن مطہر (یعنی پاک کرنے والا) نہیں ہوتا۔
➋ آزاد شدہ غلام پر قیاس:
◈ انہوں نے دوسری مثال دی کہ جیسے ایک غلام کو آزاد کر دیا جائے تو وہ شخص اب دوبارہ کفارے یا کسی اور شرعی سبب کے تحت آزاد نہیں کیا جا سکتا، ویسے ہی استعمال شدہ کنکری دوبارہ رمی کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔
➌ ایک کنکری سے سب کی رمی:
◈ ان کا کہنا ہے کہ اگر پہلے سے استعمال شدہ کنکری سے رمی کو جائز مانا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ تمام حاجی صرف ایک ہی کنکری استعمال کرتے رہیں۔
◈ یعنی ایک شخص ایک کنکری پھینکے، پھر اسی کو دوبارہ اٹھا کر پھینکے اور ایسا سات مرتبہ کرے، پھر وہی کنکری دوسرا حاجی استعمال کرے اور اس طرح سب لوگ اسی ایک کنکری سے رمی کر لیں۔
ان تینوں دلائل کی علمی کمزوری:
➊ پہلا سبب: مستعمل پانی کی مثال
◈ یہ دلیل ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ بات ہی درست نہیں کہ طہارت واجبہ کے بعد مستعمل پانی مطہر نہیں رہتا۔
◈ اس بات کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔
◈ جب کوئی دلیل نہ ہو تو پانی کو اس کے اصل وصف یعنی "طَهور” (پاک اور پاک کرنے والا) ہونے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
◈ اس لیے واجب طہارت میں استعمال شدہ پانی طاہر بھی ہے اور مطہر بھی۔
◈ جب اصل حکم ہی باطل ہو جائے تو اس پر کی جانے والی قیاس (یعنی فرع) بھی خود بخود باطل ہو جاتی ہے۔
➋ دوسرا سبب: آزاد غلام کی مثال
◈ یہ قیاس مع الفارق (یعنی غیر مطابق مثال) ہے۔
◈ غلام جب آزاد ہو جاتا ہے تو وہ اپنی اصل حیثیت کھو دیتا ہے، یعنی وہ غلام نہیں رہتا۔
◈ جبکہ پتھر جب پھینکا جاتا ہے، وہ پھر بھی پتھر ہی رہتا ہے، اس کی اصل حیثیت باقی رہتی ہے۔
◈ وہ صفت جس کی بنیاد پر وہ رمی کے قابل ہوتا ہے، وہ ختم نہیں ہوتی۔
◈ اور اگر کسی شرعی سبب سے کوئی شخص دوبارہ غلام بن جائے، تو پھر اسے دوبارہ آزاد کرنا بھی جائز ہے۔
➌ تیسرا سبب: ایک کنکری سے سب کی رمی
◈ اگرچہ یہ بات منطقی لگتی ہے کہ سب ایک ہی کنکری سے رمی کریں، لیکن یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
◈ جب کنکریاں بہت بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہیں تو کوئی حاجی پہلے سے استعمال شدہ کنکری کو دوبارہ کیوں استعمال کرے گا؟
◈ اس لیے یہ اعتراض محض فرضی قیاس ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
عملی ہدایت:
اس ساری وضاحت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
◈ اگر جمرات کے قریب آپ کے ہاتھ سے ایک یا ایک سے زیادہ کنکریاں گر جائیں،
◈ تو آپ زمین سے اور کنکریاں لے سکتے ہیں،
◈ اور ان سے رمی کر سکتے ہیں،
◈ خواہ غالب گمان یہ ہو کہ ان کنکریوں سے کسی اور نے پہلے رمی کی ہو یا نہ کی ہو۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب