کیا احتلام، جسم سے خون نکلنے اور قے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

کیا احتلام، جسم سے خون نکلنے اور قے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے؟

سوال :۔

میں نے روزہ رکھا تھا اور مسجد میں سو گیا۔ جب بیدار ہوا تو معلوم ہوا کہ مجھے احتلام ہوا ہے۔ کیا احتلام روزہ پر اثر انداز ہوتا ہے؟ یہ خیال رہے کہ میں نے غسل نہیں کیا اور نہانے کے بغیر ہی نماز ادا کر لی۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ مجھے سر میں پتھر لگا جس سے میرے سر سے خون بہہ نکلا۔ کیا خون بہنے کی وجہ سے میرا روزہ ٹوٹ گیا؟ اسی طرح کیا قے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے یا نہیں؟ امید ہے آپ مجھے مستفید فرمائیں گے۔

فتوی :۔

احتلام سے روزہ فاسد نہیں ہوتا کیونکہ یہ بندے کے بس کی بات نہیں۔ لیکن جب منی نکلے تو اس پر غسل جنابت لازم ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب احتلام والا پانی یعنی منی دیکھے تو اس پر غسل واجب ہے۔
(ابوداؤد کتاب الطہارۃ باب في الرجل يجد البلة في منامہ: 236، ترمذی کتاب الطہارۃ باب ما جاء فيمن يستيقظ فيرى بللا: 113 ، ابن ماجہ : 612)
رہی وہ نماز جو آپ نے بلا غسل ادا کی، یہ آپ سے غلطی ہوئی ہے اور بہت بری بات ہے۔ اب آپ پر لازم ہے کہ اس نماز کو دہرائیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف توبہ بھی کریں۔ اور جو پتھر آپ کے سر پر لگا جس سے خون بہہ نکلا تو اس سے آپ کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔ اور جو قے آپ کے اندر سے نکلی، اس میں بھی آپ کا کچھ اختیار نہ تھا لہذا آپ کا روزہ باطل نہیں ہوا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
من ذرعه القيء فلا قضاء عليه، ومن استقاء فعليه القضاء
”جسے بے اختیار قے آئی اس پر روزہ کی قضا نہیں اور جس نے عمداً قے کی اس پر قضا ہے۔“
(ابوداؤد کتاب الصیام باب الصائم يستقی عامداً : 2380 ، ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء فيمن استقاء عمداً : 720 ، ابن ماجہ : 1676)