سوال :
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ احادیث کی کتب ایرانی سازشوں کا نتیجہ ہیں اور یہ عجمی لوگوں نے وضع کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دی ہیں، اس بات میں کتنی صداقت ہے، صحیح اسلامی نقطہ نظر سے آگاہ فرمائیں؟
جواب :
عالی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مغربیت نے اہل اسلام پر تسلط و غلبہ پانے کے لیے انھیں مختلف گروہوں اور مسالک میں تقسیم کر دیا اور مسلمان افتراق و تشات میں بٹ کر ایک دوسرے سے جنگ و جدل میں مصروف ہو گئے۔ دوسری جانب اہل اسلام کے علمی ورثہ کتاب و سنت میں شکوک و شبہات اور تکلیفات پیدا کر دی گئیں۔ علم و تحقیق کے نام پر ایسا لٹریچر تحریر کیا گیا جس سے سادہ لوح عوام کے قلب و اذہان میں ارتیاب و تشکیک پیدا کر دی۔ اپنے اس مذموم مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے احادیث و سنن کو ہدف بنایا اور اس کی تاریخ، تدوین، حفاظت اور حجیت کو مشتبہ اور کمزور عمارت کی حیثیت سے پیش کیا۔ مستشرقین کی تقلید میں مشرقی مقلدین نے بھی تجدد پسندی کے ذوق میں ان کی نقالی کی اور ذخیرہ احادیث کو مذہبی سازش، ایرانی کہاوت اور واعظین و خطباء اور قصہ گو لوگوں کی داستانیں قرار دیا، حالانکہ تاریخ کے طالب کے سامنے ان باتوں کی حیثیت خس و خاشاک سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ احادیث تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کئی سو سال بعد لکھی گئیں مگر انھیں مقدس جامہ پہنا کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا گیا اور یہ کہ اس سازش میں ایرانیوں اور عجمیوں کا بڑا گہرا ہاتھ ہے۔ اس شبہ کی حیثیت پر کاہ جتنی بھی نہیں، کیونکہ احادیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد زریں ہی میں لکھا گیا تھا اور پھر ہر دور میں اس کی کتابت ہوتی رہی، کئی ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احادیث رسول کی کتابت کیا کرتے تھے، چند ایک صحابہ کرام کا تذکرہ اختصار کے ساتھ درج ذیل ہے:
① ابوامامہ صدی بن عجلان الباہلی (المتوفی 86ھ)، سید حسن بن رحمہ اللہ نے کتابت علم کے بارے میں ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انھوں نے کہا: لا بأس بذلك ”اس میں کوئی حرج نہیں“۔
(سنن دارمي 435/1 رقم 510، جامع بيان العلم وفضله 285 ، 149/1، تقييد العلم ص 98، طبقات ابن سعد 312/7، تاريخ أبي زرعة الدمشقي 309 رقم 1726)
قاسم بن عبد الرحمن شامی مولی آل ابی سفیان ان سے احادیث لکھا کرتے تھے۔
(مصنف عبد الرزاق 152 رقم 51،50/1)
② سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو جب بحرین کی طرف روانہ کیا تو صدقہ و زکوٰۃ کے حوالے سے احکامات مرتب کر کے دیے۔
(بخاری کتاب فرض الزكاة باب زكاة القدم ح 1454)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے 500 احادیث جمع کی تھیں، ایک رات پریشانی کے عالم میں کروٹیں بدلتے رہے، صبح عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بلا کر فرمایا: تیرے پاس جو احادیث ہیں وہ لاؤ۔ چنانچہ انھوں نے ان سب کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فهذا لا يصح یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ (تذکرة الحفاظ 11/1) امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هذا غريب من هذا الوجه منا وعلى أن صالح لا يعرف ”یہ حدیث اس سند سے انتہائی غریب ہے اور اس میں علی بن صالح راوی غیر معروف ہے۔ (الأنوار الكاشفة ص 38، كنز العمال 286/10 ح 29660، جمع الجوامع 49/11، 210)
علامہ عبد الرحمن المعلمي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: في السند غيره ممن فيه نظر علی بن صالح کے علاوہ اس سند میں دیگر کئی راوی محل نظر ہیں۔ (الأنوار الكاشفة ص 138)
لہذا یہ روایت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس کے برعکس صحیح احادیث میں ان سے کتابت حدیث کا تذکرہ موجود ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کے حوالے سے اوپر ذکر ہو چکا ہے۔
③ ابو بکر فسیع بن الحارث رضی اللہ عنہ (المتوفی 51 ھ) عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے باپ نے عبید اللہ بن ابی بکرہ قاضی بست کی طرف لکھ کر بھیجا کہ تم غصہ کی حالت میں دو بندوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: لا يحكم أحد بين اثنين وهو غضبان کوئی شخص بھی دو بندوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے، جب کہ وہ غصے میں ہو۔“
(مسلم، کتاب الأقضية، باب كراهة قضاء القاضي وهو غضبان 1717، صحیح البخاری، كتاب الأحكام، باب هل يقضى القاضي أو يفتى وهو غضبان 7158)
④ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما (المتوفی 63 ھ) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ما من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم أحد أكثر حديثا عنه مني إلا ما كان من عبد الله بن عمرو فإنه كان يكتب ولا اكتب
(صحیح البخاری، كتاب العلم، باب كتابة العلم 113، صحیح ابن حبان 7152)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے سوا کوئی شخص بھی مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے والا نہیں، اس لیے کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنتا اسے لکھ دیا کرتا تھا، تو قریش نے مجھے روک دیا، وہ کہنے لگے: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنتے ہو اسے لکھ لیتے ہو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کلام فرماتے ہیں۔“ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اكتب فوالذي نفسي بيده ما خرج مني إلا حق تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
(مسند احمد 162/2، حدیث 6510، سنن أبي داود، كتاب العلم، باب كتابة العلم 3646، المستدرك للحاكم 106/1، 105 حدیث 359)
⑤ ابو ہریرہ الدوسی عبد اللہ رضی اللہ عنہ (المتوفی 59 ھ) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ امام، فقیہ، مجتہد اور مفتی تھے، حدیث میں سید الحفاظ، الاثبات تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قوت حفظ کے لیے دعا فرمائی تھی، جیسا کہ صحیح بخاری کی کتاب العلم، باب حفظ العلم (119) میں مذکور ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے تلامذہ کو احادیث لکھواتے تھے، جیسا کہ صحیفہ ہمام بن منبہ اس پر واضح دلیل ہے، جو مختلف اداروں نے شائع کیا ہے اور عربی اور اردو ترجمہ دونوں صورتوں میں دستیاب ہے۔
یہ انتہائی اختصار کے ساتھ چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کتابت حدیث کا بیان ہے، ورنہ کئی ایک صحابہ اور تابعین سے کتابت حدیث اظہر من الشمس ہے، جس کا تفصیلی تذکرہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کی کتاب ”دراسات فى الحديث النبوي وتاريخ تدوينه“ میں موجود ہے۔
مذکورہ بالا توضیح سے معلوم ہوا کہ حدیث کی کتابت تو عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے جاری ہے اور صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ محدثین نے حدیث کی کتب مرتب کیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں اس کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ منکرین حدیث کا یہ غلیظ پروپیگنڈہ ہے کہ کتب حدیث تو کئی سو سال بعد میں لکھی گئی ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ محدثین تو ایرانی تھے اور ان کی یہ سازش ہے، اس میں بھی ذرہ بھر وزن نہیں۔ جن محدثین نے احادیث کی کتب مدون کی ہیں ان کی اکثریت عربی ہے، انھیں عجمی قرار دینا محض دھوکا اور فریب ہے، اکثر کتب احادیث کے مرتبین عرب تھے، اس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔ عصر اول میں امام محمد بن مسلم المعروف ابن شہاب الزہری، امام سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر اور عمر بن عبد العزیز کا نام آتا ہے۔ یہ سارے عربی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ عمر بن عبد العزیز تو اسلامی تاریخ میں خلیفہ راشد کی حیثیت سے معروف و مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ چند نامور محدثین کا ذکر درج ذیل ہے:
① امام مالک بن انس رحمہ اللہ (المتوفی 179ھ)کا تعلق قبیلہ ذی اصبح سے ہے۔
(جمهرة أنساب العرب 436، تهذيب التهذيب 350/5، رقم 7483، تهذيب الكمال 6320/6)
ذی اصبح خالص عربی قبیلہ ہے اور امام مالک کی کتاب ”الموطا“ امت مسلمہ کے ہاں متداول و مقبول ہے۔
② امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (المتوفی 204 ھ) قریشی ہیں اور ان کا نسب نامہ یوں ہے: محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان بن شافع بن السائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن المطلب۔
(تهذيب الكمال 209/2، رقم 5638، جمهرة أنساب العرب ص 73)
امام شافعی کی کتابیں ”الأم“ اور ”المسند“ اہل علم کے ہاں معروف مشہور ہیں۔
③ امام احمد بن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ (المتوفی 241 ھ) کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو شیبان سے ہے، علامہ سمعانی فرماتے ہیں: وهي قبيلة معروفة فى بكر بن وائل وهو شيبان بن ذهل بن ثعلبة
(الأنساب 495/3)یہ بکر بن وائل میں معروف قبیلہ ہے اور وہ شیبان بن ذہل بن ثعلبہ ہے ۔
(تهذيب الكمال 18/1، رقم 93، سير أعلام النبلاء 177/11-178)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی سند امت مسلمہ کے ہاں بڑی شہرت کی حامل ہے اور کئی ہزار احادیث پر مشتمل ذخیرہ ہے۔ ماضی قریب میں یہ ”مسند“ تحقیق و تخریج کے ساتھ پچاس جلدوں میں طبع ہو کر اہل علم کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔
④ ابو بکر عبد اللہ بن الزبیر القرشي الأسدي الحميدي المكي رحمہ اللہ (المتوفی 219 ھ) قریشی ہیں اور ان کی کتاب ”المسند“ دو جلدوں میں مطبوع ہے۔(سير أعلام النبلاء 616/10، جمهرة أنساب العرب ص 117، تهذيب الكمال 4/133، رقم 3258)
⑤ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (المتوفی 238 ھ) کا تعلق بنو تمیم سے ہے اور حدیث کی کتاب ”المسند“ انھوں نے مرتب کی ہے۔
(تهذيب الكمال 176/1، رقم 326، سير أعلام النبلاء 308/11، تاریخ بغداد 245/6)
⑥ امام ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمي رحمہ اللہ (المتوفی 255 ھ) کا تعلق بھی قبیلہ بنو تمیم سے ہے۔ یہ بھی خالص عربی النسل ہیں۔ ان کی کتاب ”المسند“ معروف ہے اور کئی علماء کی تحقیق کے ساتھ مختلف مقامات سے طبع ہوتی ہے۔ حسین سلیم اسد کی تحقیق کے ساتھ چار جلدوں میں دار المغنی اور دار ابن حزم سے طبع ہوتی ہے۔ اس کی تحقیق و شرح 10 جلدوں میں ”فتح المنان“ کے نام سے دار البشائر الإسلامية بیروت سے طبع ہوئی ہے۔ امام دارمی کے حالات سير أعلام النبلاء (224/12)، تهذيب الكمال (189/4، رقم 3371) اور الانساب للسمعاني (504/2، رقم 3817) میں موجود ہیں۔
⑦ امام مسلم بن الحجاج القشيري رحمہ اللہ (المتوفی 261 ھ) کا تعلق بنو قشیر سے ہے، یہ عرب کا معروف و مشہور قبیلہ ہے۔
(الأنساب للسمعاني 482/4، رقم 8415، سير أعلام النبلاء 557/12، تهذيب الأسماء واللغات 89/2، تهذيب الكمال 95/7، رقم 6515)
امام مسلم کی ”الجامع الصحيح“ المعروف ”صحیح مسلم“ خاص و عام کے ہاں متداول و مقبول ہے اور اسے اکثر کے ہاں صحیح بخاری کے بعد درجہ حاصل ہے اور تمام بڑے مدارس میں آخری کلاسوں میں اس کی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے۔
⑧ امام ابو داود سلیمان بن الأشعث الأزدي رحمہ اللہ (المتوفی 275 ھ) کا تعلق قبیلہ بنو أزد سے ہے۔
(تهذيب الكمال 262/3، رقم 2476، سير أعلام النبلاء 203/13، الأنساب للسمعاني 248/2، تاريخ مدينة دمشق 191/22)امام ابو داود کی کتاب ”السنن“ بھی معروف ہے، کتب ستہ میں شامل ہے اور ہر بڑے مدرسہ میں اس کی تعلیم ہوتی ہے۔
⑨ امام ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورة الترمذي السلمي رحمہ اللہ (المتوفی 279 ھ) کا تعلق بنو سلیم سے ہے۔
(تهذيب الكمال 468/6، رقم 6122، سير أعلام النبلاء 270/13، تذكرة الحفاظ 635/2)
امام ترمذی کی ”جامع“ جسے سنن ترمذی بھی کہا جاتا ہے، کتب ستہ میں سے ایک ہے، دنیا کا ہر طالب علم اس سے واقف ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
⑩ امام حارث بن ابی اسامہ التميمي رحمہ اللہ (المتوفی 282 ھ) کا تعلق عرب کے مشہور قبیلہ بنو تمیم سے ہے۔ ان کی مرتب کردہ حدیث کی کتاب ”المسند“ مشہور ہے۔ یہ کتاب صحابہ کی مسند پر مرتب ہے، نہ فقہی ابواب پر۔ بنو تمیم وہ قبیلہ ہے جس کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا رہا ہوں، ان تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں: ① یہ لوگ میری امت میں سے دجال کے سب سے زیادہ سخت مخالف ہوں گے۔ ② ان کے صدقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔“ ③ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو، یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہے۔
(صحیح البخاری، كتاب العتق، باب من ملك من العرب رقيقا 2543)
⑪ امام ابو بکر احمد بن عمرو بن عبد الخالق البزار رحمہ اللہ (المتوفی 292 ھ) کا تعلق أزد قبیلے سے ہے اور ان کی حدیث کی کتاب ”البحر الزخار“ المعروف ”مسند البزار“ ہے، اس کتاب کے زوائد علامہ سیمی نے ”کشف الاستار“ کے نام سے جمع کیے ہیں۔
(سير أعلام النبلاء 554/3، شذرات الذهب 209/2، تاريخ بغداد 334/4، المنتظم لابن الجوزي 50/6)
⑫ امام ابو یعلی احمد بن علی بن المثنی التميمي رحمہ اللہ (المتوفی 307 ھ) کا تعلق بنو تمیم سے ہے، ان کی کتب میں سے ”مسند ابي يعلى“ اور ”المعجم“ معروف ہیں۔ ان کے زوائد علامہ ہیتمی نے ”المقصد العلي“ کے نام سے جمع کیے ہیں۔
(سير أعلام النبلاء 184/14، الوافي بالوفيات 58/7، شذرات الذهب 250/2)
⑬ امام محمد بن حبان ابو حاتم البستي رحمہ اللہ (المتوفی 354 ھ) بھی بنو تمیم سے ہیں اور ان کی کتاب ”صحيح ابن حبان“ کے نام سے معروف ہے۔
(سير أعلام النبلاء 104/16، شذرات الذهب 16/3، الكامل في التاريخ 566/8، تذكرة الحفاظ 89/3)
⑭ امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن أيوب الطبراني رحمہ اللہ (المتوفی 360 ھ)کا تعلق لحم قبیلہ سے ہے اور ان کی مشہور کتب میں سے المعجم الكبير، المعجم الأوسط، المعجم الصغير، كتاب الدعاء اور احادیث الطوال وغیرہ ہیں۔
(تذكرة الحفاظ 85/2، شذرات الذهب 30/3، سير أعلام النبلاء 119/16، ميزان الاعتدال 195/2)
⑮ امام علی بن عمر الدارقطني البغدادي رحمہ اللہ (المتوفی 385 ھ) کی مشہور کتاب ”السنن“ ہے۔ اس طرح ”العلل الواردة في الأحاديث“ بھی ان کی معروف کتاب ہے۔
(سير أعلام النبلاء 449/16، تاريخ بغداد 100/13، وفيات الأعيان 297/3، شذرات الذهب 117/3)
⑯ امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاكم النيسابوري رحمہ اللہ (المتوفی 405 ھ) کا تعلق بنو ضبيعہ سے ہے، یعنی قصبہ بنو آدم بن طانجہ کے خاندان سے ہیں اور یہ بھی عربوں کا مشہور قبیلہ ہے۔
(الأنساب للسمعاني 589/3، سير أعلام النبلاء 177/17، تاريخ بغداد 473/5)
⑱ امام محمد بن اسحاق بن خزيمہ السلمي رحمہ اللہ (المتوفی 311 ھ) کی ”صحيح ابن خزيمہ“ ان کی معروف کتاب ہے۔
(سير أعلام النبلاء 365/14، تهذيب الأسماء واللغات 78/1، شذرات الذهب 263/2)
⑱ امام عبد الرزاق بن همام بن نافع أبو بكر الصنعاني رحمہ اللہ (المتوفی 211 ھ) صنعانی ہیں اور حميری قبیلہ یمن کے قبائل میں سے ہے۔ ان کی معروف کتاب ”المصنف“ کے نام سے مطبوع و متداول ہے، اسی طرح تفسير عبد الرزاق بھی۔
(سير أعلام النبلاء 563/9، الأعلام للزركلي 353/3، شذرات الذهب 27/2)
ہم نے انتہائی اختصار کے ساتھ چند ایک ایسے محدثین کا تذکرہ کیا ہے جو کتب احادیث کے مرتب اور مدون ہیں اور ان کا تعلق عربوں سے ہے۔ ان کے علاوہ بھی بے شمار محدثین ہیں جو عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ البتہ معروف محدثین میں سے امام محمد بن اسماعیل البخاري رحمہ اللہ (المتوفی 656 ھ)، امام ابو بکر ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی 235 ھ) اور امام ابو عبد اللہ محمد بن يزيد القزويني رحمہ اللہ (المتوفی 273 ھ)المعروف امام ابن ماجہ وغیرہ غیر عربی محدثین ہیں۔ اس مختصر سی توضیح سے واضح ہو گیا کہ منکرین حدیث کا احادیث کو مجھے سازش قرار دینا کتنا پر فریب ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ احادیث بیان کرنے والے راویوں کی توثیق و تعدیل دیکھی جاتی ہے نہ کہ ان کا علاقہ اور خاندان۔ اگر کوئی شخص جرح و تعدیل کی کٹھائی سے گزرتا ہے اور اس پر کوئی قابل التفات جرح نہیں ہے تو اس کی روایت قبول کی جاتی ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی علاقہ سے ہو، پھر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان کے اساتذہ اور پیش رو عرب محدثین ہیں اور ان کی کتب میں بھی وہی احادیث ہیں جو عرب محدثین کے ہاں معروف و مشہور ہیں۔
اور یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ منکرین حدیث کے بقول یہ کیسا سازشی گروہ تھا کہ اس نے اپنی ہی مرتب کردہ کتب میں اپنے ہی خلاف احادیث کو رواج دیا۔ ایسی احادیث بیان کیں جو حجاز و یمن کی فضیلت پر مشتمل ہیں اور عراق و کوفہ وغیرہ علاقوں کی مذمت میں ہیں۔ کتب احادیث میں ایرانیوں کے مرکز عراق کو فتنہ و فساد اور قرن الشیطان کے ظہور کا مقام بتایا گیا ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير بيده يوم العراق ها إن الفتنة هاهنا ها إن الفتنة هاهنا ثلاث مرات من حيث يطلع قرن الشيطان
(مسند احمد 143/2، حدیث 6302)
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے عراق کی جانب اشارہ کر کے فرمارہے تھے: خبردار! فتنہ یہاں سے ہوگا۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی، پھر فرمایا یہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر دعا فرمائی: اے اللہ! ہمارے مدینہ میں برکت نازل فرما! ہمارے مد اور صاع میں برکت نازل فرما! اے اللہ! ہمارے شام و یمن میں برکت نازل فرما! ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے عراق میں بھی۔ آپ خاموش ہو گئے، پھر پہلے ہی کی طرح دعا کی، پھر ایک آدمی نے کہا ہمارے عراق میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں سے شیطان کا سینگ رونما ہوگا اور فتنے اٹھیں گے۔“
(المعجم الأوسط للطبراني 4110، مجمع الزوائد 208/3، مزید ملاحظہ ہو صحیح البخاري 7094، صحیح البخاري 7064، مسند احمد 118/2، حدیث 5987، ترمذی 3979)
سیدنا سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”انے عراقیو! تم کس قدر چھوٹے چھوٹے مسائل دریافت کرتے ہو اور کبائر کا ارتکاب کرتے ہو، میں نے اپنے باپ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: بے شک فتنہ یہاں سے آئے گا۔ اور آپ نے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: یہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔“
(صحیح مسلم، كتاب الفتن، باب الفتنة من المشرق 2905)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دلوں کی سختی اور جفا مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں۔“
(صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب تفاضل أهل الإيمان فيه ورجحان أهل اليمن فيه 53)
شام و دمشق کے فضائل و مناقب پر علامہ محمد بن احمد بن عبد الہادی کی کتاب ”فضائل الشام“ تحقیق مجدی فتحی السید اور تخریج احادیث فضائل الشام دمشق للالبانی وغیرہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ ان احادیث کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ منکرین حدیث طفل مکتب سے بھی کم تر درجہ کی عقل رکھتے ہیں۔ آخر وہ کیسے سازشی تھے جنھوں نے تمام فضائل و مناقب تو عربوں کے لیے بیان کر دیے اور نقصان و خسران فتنہ و فساد اور پستی و خرابی عجمیوں کے لیے منتخب کر لی۔ بہر کیف یہ بات حقیقت سے عاری ہے کہ احادیث کا مجموعہ ایرانی سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ منکرین حدیث کا بدبودار افسانہ اور لایعنی حکایت ہے۔ یہ پودا بعض بے علم اور علم شریعت سے کوسوں دور کلرکوں کی گود میں پلا ہے اور یہودیت نے اس پودے کو پانی دے کر اس کی آبادی کی ہے۔ اس بات کی مفصل بحث کے لیے مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی کتاب ”حجیت حدیث“ اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی کتاب ”انکار حدیث حق یا باطل“ ملاحظہ فرمائیں۔
ہم نے ان کتب سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے، یہ کتب لائق مطالعہ اور علم سے بھر پور ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے مؤلفین پر اپنی رحمت کی بارش نازل فرمائے۔ (آمین)