مضمون کے اہم نکات
کیا ’’اتفاق سے ایسے ہوا‘‘ کہنا جائز ہے؟
سوال:
کیا ’’اتفاق سے‘‘ یہ ہوگیا یا اس طرح کی دیگر تعبیرات استعمال کرنا جائز ہے؟ اس کے بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہماری رائے میں ’’اتفاق سے‘‘ یا اس طرح کی دیگر تعبیرات کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے، بشرطیکہ ان کا استعمال انسانی افعال و واقعات کے ضمن میں ہو، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق۔
احادیث میں اس قسم کی تعبیرات کا استعمال:
اس بات کی تائید کچھ احادیث سے بھی ہوتی ہے، جن میں اس طرح کی تعبیرات کا مفہوم موجود ہے، مثلاً:
◈ صحیح بخاری میں ایک روایت کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں:
"ان فاطمة رضي الله عنها اتت النبی صلي الله عليه وسلم تشکو الیه ما تلقی فی یدها من الرحی وبلغها انه جاء ہ فلم تصادفه فذکرت ذلک لعائشة…”
’’حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ چکی کی مشقت کی شکایت کریں، کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آئے ہیں، لیکن اتفاق سے ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ ہو سکی، تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنے کا مقصد بیان کیا…‘‘
(صحیح البخاري، النفقات، باب عمل المرأة فی بیت زوجها، حدیث: ۵۳۶۱)
◈ صحیح مسلم میں ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
"انطلق رسول الله الی ام ايمن، فانطلقت معه فناولته اناء فيه شراب، قال: فلا ادری اصادفته صائما اولم يرده…”
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی ساتھ تھا۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے آپ کو پانی کا پیالہ دیا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ اتفاق سے روزے سے تھے یا آپ نے پانی کو رد نہیں کیا…‘‘
(صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ام ایمن، حدیث: ۲۴۵۳)
اتفاق کا مفہوم انسان کے حوالے سے:
◈ انسان کے بارے میں کوئی واقعہ یا چیز اتفاق سے پیش آ سکتی ہے، کیونکہ انسان علم غیب نہیں رکھتا۔
◈ کسی وعدہ، شعور یا پیشگی اطلاع کے بغیر اگر کوئی واقعہ یا چیز پیش آ جائے تو اسے "اتفاق” کہا جا سکتا ہے۔
◈ ایسے مواقع پر ’’یہ بات اتفاق سے ہوگئی‘‘ کہنا فطری اور درست ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسا کہنا جائز نہیں:
◈ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس قسم کی تعبیرات استعمال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ:
➊ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
➋ ہر چیز اس کے علم اور ارادے کے مطابق واقع ہوتی ہے۔
➌ اس کے علم میں کبھی کوئی چیز اچانک یا غیر متوقع طور پر پیش نہیں آتی۔
لہٰذا انسانی معاملات میں ’’اتفاق سے‘‘ کہنا درست اور جائز ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح کی تعبیرات ممنوع اور ناجائز ہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب