کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟

مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

زیرِ نظر تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لؤلؤہ (فیروز) کے بارے میں بعض رافضی و گمراہ افراد جو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ “مسلمان” تھا، یہ دعویٰ علمی و تاریخی معیار پر ثابت نہیں۔ ہم اصل مراجع کی روشنی میں یہ دکھائیں گے کہ محدثین و مؤرخین کے ہاں ابو لؤلؤہ کے مذہب کے تعین میں اختلاف ضرور ملتا ہے (مجوسی/نصرانی)، مگر اس کا مسلمان ہونا ثابت نہیں۔ نیز “اتقِ اللہ” جیسے الفاظ سے محض اسلام لازم پکڑ لینا علمی غلطی ہے، کیونکہ یہ وعظ و نصیحت کا عمومی اسلوب ہے جو غیر مسلم کے لیے بھی بولا جا سکتا ہے۔ آخر میں ہم نتیجہ اخذ کریں گے کہ صحیح منہج یہ ہے کہ تاریخی مواد کو جذباتی نعروں کے بجائے حوالہ اور اصولِ استدلال کے ساتھ سمجھا جائے۔

اصل دعویٰ اور اس کا محلِ نزاع

بعض لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو لؤلؤہ کو نصیحت کرتے ہوئے “اتقِ اللہ” فرمایا، لہٰذا وہ مسلمان تھا؛ اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اہلِ سنت علماء عوام کو “مجوسی قاتل” کا تصور دے کر حقیقت چھپاتے ہیں۔
اس استدلال کی بنیاد ایک روایت کے ایک جملے پر ہے، جبکہ مذہب کے تعین کے لیے صریح تاریخی و روائی تصریحات دیکھی جاتی ہیں، محض نصیحت کے الفاظ پر مذہب کا حکم نہیں لگایا جاتا۔

دلائل (اقوالِ ائمہ) ایک ایک کر کے

① امام حاکم نیشاپوری: ابو لؤلؤہ کو “نصرانی” کہا گیا

قَالَ: ” كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ … فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اتَّقِ اللَّهَ وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ ” … وَكَانَ اسْمُهُ فَيْرُوزَ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا

اردو ترجمہ:
ابو رافع کہتے ہیں: ابو لؤلؤہ مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا… وہ عمر سے ملا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مغیرہ مجھ پر (محصول میں) زیادتی کرتا ہے، اس سے کہیے کہ مجھ پر تخفیف کرے۔ تو عمر نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنے مالک کے ساتھ اچھا سلوک کرو… (راوی کہتا ہے) ابو لؤلؤہ کا نام فیروز تھا اور وہ نصرانی تھا۔

الكتاب: المستدرك على الصحيحين
المؤلف: الحاكم النيسابوري
رقم: 4512

مختصر وضاحت:
یہ روایت اسی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے آخر میں صراحت کرتی ہے کہ ابو لؤلؤہ “فیروز” تھا اور “نصرانی” تھا۔ یہاں یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ “اتقِ اللہ” کا جملہ آیا ہے مگر اسی کے ساتھ “نصرانی” کی صریح تعیین بھی موجود ہے؛ لہٰذا “اتقِ اللہ” سے مسلمان ہونا لازم لینا درست نہیں۔

② ابن عبد البر: اختلاف نقل کیا؛ اور “نصرانی” ہونے کی صراحت بھی آئی

فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ مَجُوسِيًّا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ نَصْرَانِيًّا … قَالَ: كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ أَزْرَقَ نَصْرَانِيًّا

اردو ترجمہ:
بعض نے کہا کہ وہ مجوسی تھا، اور بعض نے کہا کہ وہ نصرانی تھا… (عمرو بن میمون کے حوالے سے) کہا: ابو لؤلؤہ نیلا (رنگ/آنکھوں والا) نصرانی تھا۔

الكتاب: الاستيعاب في معرفة الأصحاب
المؤلف: ابن عبد البر الأندلسي

مختصر وضاحت:
ابن عبد البر نے پہلے اختلاف نقل کیا (مجوسی/نصرانی)، پھر تابعی عمرو بن میمون کے حوالے سے “نصرانی” ہونے کی بات ذکر کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم مصادر میں مسلمان ہونے کی صراحت نہیں، بلکہ غیر مسلم ہونے کے دونوں احتمالات ملتے ہیں۔

③ قضاعی (مؤرخ): مجوسی کہا، اور ساتھ “قیل: نصرانی” بھی ذکر کیا

ضربه أبو لؤلؤة فيروز الفارسي، غلام المغيرة بن شعبة، وكان مجوسيّاً، وقيل: كان نصرانيّاً

اردو ترجمہ:
انہیں ابو لؤلؤہ فیروز فارسی نے ضرب لگائی، جو مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا، اور وہ مجوسی تھا، اور کہا گیا کہ وہ نصرانی تھا۔

الكتاب: تاريخ القضاعي (كتاب عيون المعارف)
المؤلف: محمد بن سلامة القضاعي المصري (ت 454هـ)

مختصر وضاحت:
یہاں بھی مذہب کے بارے میں “مجوسی” کی تعیین آئی اور ساتھ “کہا گیا: نصرانی” بھی۔ یعنی قدیم تاریخی بیانیہ غیر مسلم کے گرد گھومتا ہے، نہ کہ “مسلمان قاتل” کے گرد۔

④ محمد بن حبیب البغدادی: “المجوسی” کی صراحت

قتله ابو لؤلؤة المجوسي

اردو ترجمہ:
(عمر کو) ابو لؤلؤہ مجوسی نے قتل کیا۔

الكتاب: المحبر
المؤلف: محمد بن حبيب الهاشمي البغدادي (ت 245هـ)

مختصر وضاحت:
یہ عبارت مختصر مگر صریح ہے: قاتل کو “المجوسی” کہا گیا۔ اس قسم کی صراحتیں “مسلمان تھا” کے دعوے کو کمزور کرتی ہیں۔

⑤ ابن کثیر: “مجوسی الاصل” اور حضرت عمرؓ کا قول

فَاتَّفَقَ لَهُ أَنْ ضَرَبَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فَيْرُوزُ الْمَجُوسِيُّ الْأَصْلِ … فَقَالَ: الْحَمْدُ للَّه الَّذِي لَمْ يَجْعَلْ مَنِيَّتِي عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ يَدَّعِي الْإِيمَانَ وَلَمْ يَسْجُدْ للَّه سَجْدَةً

اردو ترجمہ:
پھر یہ ہوا کہ انہیں ابو لؤلؤہ فیروز نے ضرب لگائی، جو مجوسی الاصل تھا… پھر (حضرت عمر نے) فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر نہیں کی جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہو، اور جس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا ہو۔

الكتاب: البداية والنهاية
المؤلف: ابن كثير

مختصر وضاحت:
ابن کثیر نے ابو لؤلؤہ کو “مجوسی الاصل” کہا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ قاتل “ایمان کا دعویٰ کرنے والا” نہ تھا اور “اللہ کو سجدہ نہ کرنے والا” تھا۔ یہ الفاظ قاتل کے مسلمان ہونے کے دعوے کے خلاف واضح قرینہ ہیں۔

“اتقِ اللہ” سے مسلمان ہونا لازم پکڑنا کیوں غلط ہے؟

اس بحث کا مرکزی مغالطہ یہ ہے کہ “اتقِ اللہ” (اللہ سے ڈرو) کے الفاظ سے لازماً مخاطَب کو مسلمان قرار دے دیا جائے۔ حالانکہ:

نصیحت اور اخلاقی ہدایت کے طور پر ایسے الفاظ عام طور پر بھی کہے جا سکتے ہیں۔

اصل وزن “صریح تعیین” کا ہوتا ہے؛ اور اوپر کے متعدد مصادر میں نصرانی یا مجوسی کی تصریح موجود ہے۔

اسی واقعہ والی روایت میں (حاکم کے ہاں) “اتقِ اللہ” بھی ہے اور آخر میں “نصرانی” بھی؛ لہٰذا یہی روایت خود اس استدلال کو توڑ دیتی ہے۔

نتیجہ

مندرجہ بالا دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ:

١) ابو لؤلؤہ (فیروز) کے مذہب کے بارے میں قدیم اہلِ علم و مؤرخین کے ہاں مجوسی یا نصرانی ہونے کی تصریحات ملتی ہیں۔
٢) اس کا “مسلمان ہونا” کسی معتبر صریح نص سے ثابت نہیں؛ اور صرف “اتقِ اللہ” جیسے الفاظ سے مسلمان ہونے کا حکم نکالنا علمی طور پر درست نہیں۔
٣) لہٰذا جو لوگ ابو لؤلؤہ کو “مسلمان قاتل” ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ناقص استدلال اور چنیدہ جملوں سے غلط نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
٤) صحیح منہج یہ ہے کہ تاریخی مسائل میں جذباتی نعروں کے بجائے صریح روایات، متعدد مصادر اور اصولِ استدلال کی روشنی میں بات کی جائے۔

اہم حوالوں کے سکین

کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟ – 01 کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟ – 02 کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟ – 03 کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟ – 04 کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟ – 05

 

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

کیا ابو لؤلؤہ (فیروز) قاتل حضرت عمرؓ مسلمان تھا؟