سوال :
کیا ابو طالب کی وفات اسلام پر ہوئی تھی، یا کفر پر؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابو طالب ہر سال مسلمان تھا لیکن اس نے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا، اس کے متعلق صحیح موقف کیا ہے؟
جواب :
اس بات میں اہل علم فقہاء، محدثین و محققین کے ہاں کوئی اختلاف نہیں کہ ابو طالب کی وفات کفر پر ہوئی ہے۔ سید التابعین سعید بن المسیب اپنے والد ماجد سے بیان کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے ابو طالب کے پاس ابو جہل، عبد اللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ کو پایا، آپ نے فرمایا: اے میرے چچا! لا إله إلا اللہ کہہ دو تاکہ میں اس کلمہ کو اللہ کے ہاں تمہارے لیے دلیل کے طور پر پیش کروں۔ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا: کیا تم عبد المطلب کے دین سے روگردانی کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر یہ کلمہ پیش کرتے رہے اور ابو جہل و عبد اللہ بن ابی امیہ اپنی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ ابو طالب نے آخری بات یہی کہی کہ وہ عبد المطلب ہی کے دین پر ہے اور لا إله إلا اللہ کہنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک مجھے روکا نہ گیا میں تمہارے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی:
”نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے بخشش کی دعا مانگیں ۔ “(التوبة 113)
اور ابو طالب کے بارے میں آیت نازل کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
”یقینا جسے آپ پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔“ (القصص 56)
بخاری، کتاب التفسير سورة القصص، باب قول وإنك لا تهدي.. الخ (4772، 1360)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم تختلف النقلة فى أنها نزلت فى أبى طالب
یہ آیت کریمہ بالاتفاق ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
(فتح الباری 506/8)
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابو طالب فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا:
إن عمك الشيخ الضال قد مات فقال انطلق فواره ولا تحدث شيئا حتى تأتيني
(مسند احمد 31/1 ح 1093، ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب الرجل يموت له قرابة مشرك 3214، النسائي 9019)
”بے شک آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اس کو چھپا دو اور میرے پاس آنے تک ہر گز کوئی بات نہ کرنا۔“
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری (195/7) میں ابو داؤد، نسائی، ابن خزیمہ اور ابن الجارود کے حوالے سے علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں یوں الفاظ بھی نقل کیے ہیں:
لما مات أبو طالب قلت يا رسول الله إن عمك الشيخ الضال قد مات قال اذهب فواره قلت إنه مات مشركا فقال اذهب فواره
”جب ابو طالب فوت ہوا میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقیناً آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جاؤ اسے چھپا دو۔ میں نے کہا: وہ مشرک مرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے چھپا دو۔“
اس صحیح حدیث اور اوپر ذکر کردہ مسیتب رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو طالب مشرک و کافر ہی مرا ہے، اس کے متعلق قرآن کی آیت بھی نازل ہوئی اور علی رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کے متعلق کھلی گواہی دی کہ وہ مشرک مرا ہے۔
بعض لوگوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک ایسی روایت سے دلیل لی ہے جس میں مبہم راوی ہے کہ ابو طالب قریب الموت تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کلمہ ”لا إله إلا اللہ“ پیش کیا تو اس نے انکار کیا، پھر عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا تو وہ اپنے ہونٹ ہلا رہا تھا، عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف مائل ہوئے اور فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے! اللہ کی قسم! میرے بھائی نے وہ کلمہ کہہ دیا ہے جس کا میں نے اسے حکم دیا تھا۔ (فتح الباری 1900-199/7)
یہ روایت ضعیف ہے، اس میں ایک راوی مبہم بھی ہے اور یہ صحیح احادیث کے خلاف بھی ہے، اس لیے یہ قابلِ حجت نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے ابن حجر کی کتاب ”الاصابر“ میں ابو طالب کے حالات ملاحظہ کریں۔