سوال :
کھیلوں کی شرعی حیثیت کیا ہے، کمپیوٹر میں گیم کھیلنا کیسا ہے؟
جواب :
اسلام ایک جامع ترین دین ہے، جس میں اس حیات مستعار کے ہر پہلو پر عمدہ اور بہترین ہدایات موجود ہیں، جس کے ذریعے آخرت سنوارنے کے ساتھ ساتھ امور دنیا کی بھی رعایت موجود ہے، لیکن اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض لوگوں نے اپنی ساری زندگی کو کھیل کود اور تماشے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ کھیلوں میں ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے لوگ اپنی تمام توانائیاں اور قوتیں صرف کر دیتے ہیں اور دوسری طرف بعض افراد نے خوف و خشیت اور ریاضت و مجاہدہ کے نام پر صحیح اور جائز کھیل کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے۔
حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں جہاں خوف، توکل، خشیت و تقویٰ، زہد و ورع اور دیگر عبادات سے عبارت ہیں، وہاں ان کی حیات طیبہ میں فرحت و سرور، خوش دلی اور مسرت قلبی کے پہلو بھی نمایاں ہیں۔ ہمیں اپنی اس زندگی میں صحت و فراغت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس الصحة والفراغ
(بخاري کتاب الرقاق باب الصحة والفراغ ولا عيش إلا عيش الآخرة ح 6412، ترمذی کتاب الزهد باب الصحة والفراغ نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس ح 2304)
”تندرستی اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں۔ “
لہذا فارغ وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، نہ کہ اسے ایسے کاموں میں لگا دیا جائے جس میں نقصان اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہ ہو۔ کامیاب و کامران وہی انسان ہے جو اپنی زندگی کے لمحات کو ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے اور سنجیدگی و دیانت سے اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرتا ہے۔ دنیاوی زندگی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴾
(الأنعام: 32)
”اور دنیاوی زندگی کھیل و تماشے کے سوا کچھ نہیں، البتہ آخرت کا گھر متقی لوگوں کے لیے بہتر ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے۔“
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾
(العنكبوت: 64)
”اور دنیا کی یہ زندگی تو محض کھیل تماشا ہے، البتہ اصلی زندگی تو آخرت کا گھر ہے، کاش وہ جانتے ہوتے۔“
الغرض، اس مفہوم کی قرآن حکیم میں بہت سی آیات ہیں، جن پر غور کرنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ایک با مقصد زندگی اور لہو و لعب میں مصروف زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایمان دار شخص کھیل تماشے، لغو اور فضول کاموں سے بچتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴾
(المؤمنون:3)
”اور یہ وہ لوگ ہیں جو فضول کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضول اور لایعنی کاموں کے ترک کو ”حسن الاسلام“ سے تعبیر فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے:
من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه
(ابن ماجه کتاب الفتن باب كف اللسان في الفتنة ح 3976، مسند أحمد 201/1 ح 17370، 1732، ترمذی کتاب الزهد باب حديث من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه ح 2318)
”آدمی کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ وہ لایعنی امور ترک کر دے۔“
امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں لکھا ہے: ”اللهو ما يشغل الإنسان عما يعنيه“ ”لہو ہر وہ چیز ہے جو انسان کو قابل توجہ اور اہم امور سے غافل کر دے۔“
اللعب کے بارے میں لکھتے ہیں: ”لعب فلان إذا كان فعله غير قاصد به مقصدا صحيحا“ ”لعب ہر وہ چیز ہے جو صحیح مقصد کے بغیر انجام دی جائے۔“ لغو کے متعلق امام قرطبی اپنی تفسیر (80/13) میں فرماتے ہیں:
وهو كل ساقط من قول أو فعل يدخل فيه الغناء واللهو وغير ذلك مما قاربه
”لغو تو ہر نکمیو فضول بات اور فعل کو کہا جاتا ہے، اس میں گانا بجانا اور لہو وغیرہ سب بیکار کام شامل ہیں۔“
لیکن اس لہو و لعب اور لغو فضول کاموں کی ممانعت کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسلام میں تفریح کی بھی ممانعت ہو۔ اسلام میں با مقصد سیر و تفریح اور کھیل کی اجازت ہے، تاکہ انسان کے اندر سستی و کاہلی جنم نہ لے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سستی و کاہلی سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کرتے:
اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل والجبن والهرم والبخل
(مسلم کتاب الذكر والدعاء باب التعوذ من العجز والكسل وغيره ح 2706)
”اے اللہ! میں عاجزی، سستی، بزدلی اور بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیمات میں سستی و کاہلی، بزدلی اور اس جیسی دیگر رذیل اشیاء ناپسندیدہ ہیں۔ مناسب حدود میں رہ کر شریعت نے کھیلوں کی اجازت دی ہے۔ البتہ کھیلوں میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد اور عبادت سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
نشانہ بازی، تیراندازی، گھڑ سواری، تیراکی اور میاں بیوی کی دل لگی اسلام میں پسندیدہ کھیل ہیں۔ خالد بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں تیر انداز تھا، عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تیر انداز تھے، وہ میرے پاس سے گزرتے اور کہتے: اے خالد! ہمارے ساتھ چلو، ہم تیر اندازی کریں۔ ایک دفعہ میں نے تاخیر کر دی تو انھوں نے کہا: آؤ میں تمھیں وہ حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کر دے گا، تیر بنانے والا جو اسے اللہ تعالیٰ سے اجر حاصل کرنے کے لیے بناتا ہے، تیر پھینکنے والا اور تیر پکڑنے والا، تیراندازی کرو اور سواری کرو، سواری کرنے کی نسبت تمھاری تیر اندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔“
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وكل شيء يلهو به الرجل باطل إلا رميه الرجل بقوسه وتأديبه فرسه وملاعبته امرأته فإنهن من الحق
(مسند احمد 4/144 ح 17433، ابو داود کتاب الجهاد باب الرمی ح 2513)
”آدمی کا ہر کھیل بیکار ہے سوائے تین کے، تیر اندازی کرنا، گھوڑا سدھانا اور اپنی بیوی سے کھیلنا، کیونکہ یہ تینوں حق میں سے ہیں۔“
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ جابر بن عبد اللہ اور جابر بن عمیر الانصاری رضی اللہ عنہما دونوں کو میں نے تیر اندازی کرتے ہوئے دیکھا۔ ان میں سے ایک اکتا گیا اور بیٹھ گیا تو دوسرے نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
كل شيء ليس من ذكر الله لهو ولعب إلا أن يكون أربعة ملاعبة الرجل امرأته وتأديب الرجل فرسه ومشي الرجل بين الغرضين وتعليم الرجل السباحة
(صحيح الجامع الصغير ح 534، السنن الكبرى للنسائي 176/8 ح : 8890، 8889، فيض القدير 30/5 ح 6316، سلسلة الأحاديث الصحيحة 625/2/1 ، 315)
ہر وہ چیز جس کا تعلق اللہ کے ذکر سے نہیں ہے، وہ لہو و لعب ہے، سوائے چار چیزوں کے، آدمی کا اپنی بیوی سے کھیلنا، اپنے گھوڑے کو سدھانا، آدمی کا دو نشانوں کے درمیان چلنا (یعنی نشانہ بازی کے لیے) اور تیراکی سیکھنا۔
مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیمات میں تفریحات موجود ہیں، جن میں سے چار اہم ترین ہیں، نشانہ بازی، تیراندازی، گھڑ سواری، تیراکی اور میاں بیوی کی باہمی دل لگی۔ قرآن وسنت میں ان چار کھیلوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے، کیونکہ ان کا دین حق کو بھی فائدہ ہے اور انسان کی صحت و تندرستی سے بھی ان کا تعلق ہے۔
تیراندازی اور گھڑ سواری کا ذکر تو سورۃ الأنفال ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم﴾ میں موجود ہے، تیراکی اور بیوی کے ساتھ کھیل کا ذکر مذکورہ احادیث میں موجود ہے، علاوہ ازیں دوڑ بھی جسمانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوڑ کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أنها كانت مع النبى صلى الله عليه وسلم فى سفر قالت فسابقته فسبقته على رجلي فلما حملت اللحم سابقته فسبقني فقال هذه بتلك السبقة
(ابو داود کتاب الجهاد باب في السبق على الرجل ح 2578، مسند أحمد 6/39 ، 264ح : 2462، 26807)
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھی، میں نے آپ کے ساتھ دوڑ لگائی اور آپ سے دوڑ میں آگے نکل گئی۔ جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ کے ساتھ دوڑ لگائی تو آپ دوڑ میں مجھ سے آگے نکل گئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس دوڑ کے بدلے میں ہے۔“
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی دوڑ تو کتب احادیث میں معروف ہے کہ وہ اونٹوں کے ساتھ مل جایا کرتے تھے۔
(ابو داود کتاب الجهاد باب في السرية ترد على أهل العسكر ح 2702، مسلم کتاب الجهاد والسير باب غزوة في فرد وغيرها 1807/132 ، 1754)
اسی طرح تفریح طبع کے لیے اچھے شعر سنانا اور سننا بھی جائز و درست ہے، جس کی تفصیل پچھلے سوال میں گزر چکی ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بچیوں کا اچھے اشعار دف بجا کر پڑھنا بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ یہ تو وہ چند کھیل تھے جن کا تذکرہ بلا قاعدہ احادیث صحیحہ میں موجود ہے، ان کے علاوہ باقی کھیلوں کے متعلق درج ذیل امور پر غور فرمائیں:
① جو کھیل فرائض و حقوق کی ادائیگی سے غافل کر دیں، وہ ناجائز ہوں گے، کیونکہ ایسے کھیل لغو و لعب ہیں جن کی رخصت نہیں ہے۔ امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب الإستئذان میں باب منعقد کیا ہے: ”كل لهو باطل إذا شغله عن طاعة“ ہر لہو بے کار ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل کر دے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: ”اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی بھی چیز میں ایسا مصروف ہو جائے جس سے فرائض کی ادائیگی میں غفلت پیدا ہو جائے، خواہ وہ چیز شرعی اعتبار سے جائز ہو یا ناجائز، جیسا کہ نفلی نماز یا تلاوت یا ذکر یا قرآن کے معانی میں غور و فکر کرنے میں مشغول ہو جائے، یہاں تک کہ اس کے جانتے بوجھتے فرض نماز کا وقت نکل جائے تو وہ بھی اس ضابطے میں شامل ہے، جب یہ حال نفلی عبادت کا ہے جو شرعی لحاظ سے مطلوب و مقصود ہے تو پھر اس سے کم درجہ کی اشیاء کا کیا حال ہوگا؟ یعنی جائز اشیاء جو حقوق و واجبات سے غافل کر رہی ہوں ان کا یہ حال ہے تو باقی تو بطریق اولیٰ ناجائز ہوں گی۔“ (فتح الباري 91/11)
② ایسے کھیل جن کا کوئی مقصود نہ ہو یعنی لایعنی اور فضول، جو محض وقت گزارنے کے لیے لوگ کھیلتے ہیں، وہ بھی درست نہیں ہوں گے، کیونکہ وقت کا ضیاع بھی درست نہیں، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ صحت اور فراغت کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے اور خسارے میں پڑے ہوئے ہیں، تو مومن کی شان یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول کاموں سے اعراض کرتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ﴾
(المؤمنون: 3)
”اور ایمان والے لوگ لغو اور بے کار کاموں سے منہ موڑتے ہیں۔“
کمپیوٹر کی گیمیں، پتنگ بازی، ڈوری لوٹنا، تاش، لڈو وغیرہ ایسی ہی کھیلیں ہیں جن سے وقت کا ضیاع ہی ہوتا ہے، کوئی جسمانی فائدہ یا دینی و جہادی فائدہ نہیں، لہذا ان سے اجتناب کیا جائے۔
ایسے کھیل ہیں جن کی ممانعت احادیث صحیحہ میں موجود ہے، جیسا کہ مردہ کبوتر بازی اور جانور لڑانا وغیرہ۔ بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لعب بالنردشير فكأنما صبغ يده فى لحم خنزير ودمه
(مسلم کتاب الأشربة باب تحريم اللعب بالنردشير ح 2660/10، ابو داود کتاب الأدب باب في اللعب بالنرد ح 4939)
”جس شخص نے نردشیر کھیل کھیلا، گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں رنگ لیا۔“
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله
(ابو داود کتاب الأدب باب في نهي عن اللعب بالنرد ح 4938)
”جو شخص نرد (چوسر) کھیلے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو کبوتر کے پیچھے جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شيطان يتبع شيطانة
(ابو داود کتاب الأدب باب في اللعب بالحمام ح 4940)
”ایک شیطان دوسرے شیطان کے پیچھے جا رہا ہے۔“
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهائم
(ابو داود کتاب الجهاد باب في التحريش بين البهائم ح 2562، ترمذی کتاب الجهاد باب ما جاء في كراهية التحريش الخ ح 1708)
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع کیا ہے۔“
اس کی سند میں آئمہ مدلس ہے اور ابو یحییٰ قمات کمزور راوی ہے، اسے امام سفیان ثوری نے مرسل بیان کیا ہے، اس کے اور بھی طرق ہیں۔
لہذا چوسر کھیلنا، کبوتر بازی، تیتر بیٹر، مرغ اور دیگر جانور وغیرہ لڑانے سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ کبوتر اور مرغ وغیرہ پالنا اور ان کی خدمت کرنا جائز ہے، جیسا کہ صحیح بخاری(2603) میں ابو عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ان کا سرخ چونچ والا پرندہ مر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يا أبا عمير ما فعل النغير اے ابو عمیر! نغیر نے کیا کیا ہے؟
ایسے کھیل جو کسی حرام اور نافرمانی والے کام پر مشتمل ہوں وہ بھی ناجائز ہیں، مثلاً وہ کھیل جن میں ستر کھولا جائے، جوا، موسیقی، مرد و زن کا اختلاط وغیرہ جیسے کھیل، کیونکہ ستر کی حفاظت اسلامی فرائض میں سے ہے، جوئے کی حرمت قرآن حکیم میں منصوص ہے، موسیقی کی حرمت پر کئی احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ تفصیل کے لیے راقم کی کتاب ”ٹی وی معاشرے کا کینسر“ ملاحظہ ہو۔ اسی طرح تصاویر جمع کرنا، الہام بنانا یا ڈرا سے بنانا، مردوں اور عورتوں کا مل کر یا الگ الگ شو اور تھیٹر لگانا وغیرہ حرام ہیں اور کفار و مشرکین یہود و نصاریٰ کی نقالی اور ان کے ساتھ تشبیہ ہے، اس سے اجتناب لازمی ہے۔
امام خطابی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: ”اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھیلوں کی باقی اقسام ممنوع ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھیلوں کی اجازت صرف اس لیے دی ہے کہ ان میں سے ہر کھیل میں اگر غور کریں تو وہ دین حق کے لیے معاون ہے یا اس کا ذریعہ۔ البتہ ان کھیلوں کے حکم میں وہ کھیل بھی داخل ہیں جن کے ذریعے انسان کی جسمانی ورزش بھی ہوتی ہے، تاکہ ان کے ذریعے جسم مضبوط و قوی ہو اور دشمن سے مقابلے کی قوت حاصل ہو، جیسے اسلحہ کا مقابلہ یعنی نشانہ بازی اور دوز وغیرہ۔ باقی رہے وہ قسم قسم کے کھیل جنھیں بے کار لوگ کھیلتے ہیں جیسے شطرنج، چوسر، کبوتر بازی اور دیگر بے مقصد کھیل، وہ سب ممنوع ہیں، کیونکہ ان سے نہ کسی نیک کام میں مدد ملتی ہے اور نہ کسی واجب کی ادائیگی کے لیے فرحت و خوشی کا سامان حاصل ہوتا ہے۔“
(تهذيب للامام ابن القيم 321/3، بهامش مختصر سنن ابی داود للمنذري والخطابي)
یہ بھی یاد رہے کہ عصر حاضر میں جتنے کھیل کھیلے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو بے شمار کوتاہیوں، خرابیوں اور مفاسد پر مبنی ہیں۔ مثلاً ان کے کھیلنے سے نمازوں کا ضیاع، جمعہ نہ پڑھنا، رمضان المبارک کے فرض روزے ضائع کیے جاتے ہیں، جیسا کہ کرکٹ کے ایک روزہ میچ اکثر رمضان المبارک میں رکھ لیے جاتے ہیں۔ ان میں مرد و زن کا اختلاط نمایاں ہوتا ہے۔ عورتیں سپیشل یہ میچ دیکھنے مختلف ممالک میں جاتی ہیں۔ پھر ان کھیلوں میں وقت کے ضیاع کے ساتھ مال و دولت کا بھی نقصان ہوتا ہے، اگر وہ رقم جو ان میچوں پر صرف ہوتی ہے دینی امور پر لگائی جائے تو ہمارا معاشرہ کافی حد تک صحیح ہو سکتا ہے۔
ان کھیلوں میں جس طرح کھلاڑیوں کو قومی اور ملی ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اپنے مجاہد کمانڈرز، صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کو اپنا آئیڈیل بنانے کی بجائے ان کھلاڑیوں کو بنا رہے ہیں۔ جس کی بنا پر جہاد جیسے اہم فریضے سے قوم کو غافل کیا جا رہا ہے۔ اکثر کھیلوں میں ستر کا اہتمام نہیں ہوتا۔ مرد تو کیا عورتیں بھی نیکر اور شرٹ پہن کر کھیل میں شریک ہوتی ہیں، حالانکہ شرعاً عورت ساری کی ساری پردے میں رہنے والی ہے۔ ان کھیلوں کی وجہ سے عورت کو اصل مقام سے گرا کر برسر بازار لایا گیا ہے۔ قوم نے جہاد کے محاذ کو چھوڑنے کی بجائے کھیلوں کو جہاد سمجھ لیا ہے۔ پچھلے سال جب کشمیر میں جنگ زوروں پر تھی تو لوگ انڈیا اور پاکستان کا میچ دیکھ کر اسے کفر و اسلام کا معرکہ سمجھے بیٹھے تھے اور ہوٹلوں، چوکوں، پارکوں میں ٹی وی نصب کر کے میچ دیکھے جا رہے تھے۔ بلکہ ان میچوں کے لیے لوگ نذریں اور منتیں مانگتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس طرح امت مسلمہ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا جا رہا ہے۔
الغرض، اگر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو ان کھیلوں کا نہ دین کو کوئی فائدہ ہے اور نہ انسانی صحت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق ہے۔ انھیں وہ کھیل کھیلنے چاہییں جو اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں، ان کا دین کو فائدہ ہو اور ہماری صحت و تندرستی بھی قائم رہے، جیسے تیراکی، گھڑ سواری، نشانہ بازی اور دوڑ وغیرہ۔