کھیرے جانور کی قربانی اور شرعی حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا کھیرے جانور کی قربانی ہوسکتی ہے؟

جواب :

قربانی کے جانور کے لیے شریعت میں جو احکامات وارد ہوئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جانور دو دانتا ہو، اگر عسرت اور تنگی ہو تو بھیٹر کا کھیرا جانور بھی قربانی دیا جا سکتا ہے۔ جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم دو داتنے کے سوا جانور ذیح نہ کرو، الا یہ کہ تمھارے اوپر عسرت وتنگی ہو تو بھیڑ کا کھیرا ذبح كرلو۔ “
(مسلم، كتاب الأضاحي، باب من الأضحية 1362 سند أبي عرفة 228/5)
عسرت و تنگی کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ دو دانتا جانور مل نہ رہا ہو اور دوسرا یہ کہ اگر مل رہا ہو تو مہنگا ہو، آدمی میں وہ جانور خریدنے کی ہمت نہ ہو۔ ان ہر دو صورتوں میں وہ بھیٹر کا کھیرا قربانی دے سکتا ہے۔ بعض لوگ مطلق طور پر کھیرے جانور کی قربانی کے قائل ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ کلیب بیان کرتے ہیں۔
”ہم سفر میں تھے کہ قربانی والی عید کا وقت آگیا ، ہم میں سے ہر کوئی دو یا تین کھیروں کے بدلے میں دو دانتا خریدنے لگا، مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے ہم سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، یہ دن آگیا تو ہر شخص دو یا تین کھیروں کے بدلے دو دانتا طلب کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بے شک کھیرا اس کام پر پورا اترتا ہے جس کام پر دو دانتا پورا اترتا ہے۔“
(نسائی، کتاب الضحايا، باب المسنة والجذعة 1388، مسند احمد 368/5، ج : 23511، مستدرك حاكم 226/4، ح : 7540)
یہ حدیث ہمارے ہی موقف کی مؤید ہے، کیونکہ ایک تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ دو دانتا ہی قربانی دیتے تھے، تبھی تو وہ کھیرے جانوروں کے بدلے میں دو دانتے خریدنے لگے اور دوسری بات یہ ہے کہ بکریوں کی کمی اور قلت کی وجہ سے آپ نے کھیرے کے بارے میں فرمایا: ”جس پر دو دانتا پورا اترتا ہے کھیرا بھی اس پر پورا اترتا ہے۔ لہذا جب جانوروں کی قلت ہو تو کھیرا قربانی لگ سکتا ہے اور یہ قلت و عسرت والی مفہوم حدیث جابر رضی اللہ عنہ میں موجود ہے جو اوپر صحیح مسلم کے حوالے سے بیان ہوئی۔ اس لیے دو دانتا ہی قربانی دیں، اگر تنگی ہو تو پھر کھیرا قربانی دے دیں۔ (واللہ اعلم)