مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی ممانعت اور تاویلات کا جائزہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 506

سوال

حدیث شریف میں یہ بیان آیا ہے کہ جوتا کھڑے ہو کر نہیں پہننا چاہیے۔ بعض حضرات اس بارے میں یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ کھڑے ہو کر بھی جوتا پہنا جا سکتا ہے۔ تو کیا کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی کوئی دلیل موجود ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنن ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابن عمرؓ سے روایات منقول ہیں جن میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔

جہاں تک تاویلوں کا تعلق ہے تو اصول یہ ہے کہ جس تاویل کے لیے کوئی شرعی دلیل موجود ہو، وہ درست سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں، ان پیش کردہ تاویلات میں سے کسی ایک کے لیے بھی کوئی معتبر دلیل نہیں ملی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔